خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 391
خطبات مسرور جلد ہشتم 391 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 موعود علیہ الصلوۃ والسلام ٹہل رہے تھے۔تو مولوی صاحب کہتے ہیں کہ لیٹنے کے تھوڑی دیر بعد میری آنکھ لگ گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے ہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔آپ نے فرمایا کیا ہوا؟ آپ کیوں اس طرح اٹھ بیٹھے ہیں ؟ تو میں نے عرض کی کہ حضور نیچے لیٹے ہوئے ہیں، یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اوپر چار پائی پر سو جاؤں۔تو آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا کہ لڑکے شور کرتے تھے ، انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ ہو۔تو یہ محبت ہے جو مہمان نوازی سے بہت بڑھ کر ہے۔جو صرف ماں باپ میں ہی شاید دیکھی جاتی ہے۔بلکہ نہیں، یہ تو ماں باپ سے بڑھ کر محبت ہے۔اور یہ تو اللہ تعالیٰ کے نبی کا ہی حصہ ہو سکتا ہے۔لیکن ہم جو اس کام پر مامور کئے گئے ہیں، ہمیں یہ ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ مہمانوں کی خدمت کرو۔انہیں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ تو بہر حال اپنانا چاہئے۔لینا چاہئے ، نمونہ دکھانا چاہئے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعو جلد اول ص 155-156 از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ) پھر آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ مہمان کے مقام اور مرتبہ کا خیال فرمایا کرتے تھے لیکن عمومی مہمان نوازی ہر ایک کی ایک طرح ہی ہوتی تھی۔یہاں بھی ہمارے غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمان آتے ہیں۔بعض ملکوں کی حکومتوں کے نمائندے ہوتے ہیں یا اپنی قوم کے لیڈر ہوتے ہیں، جیسے افریقہ کے چیف وغیرہ تو ان کی مہمان نوازی اور خیال رکھنے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے اور دی جاتی ہے۔اور اس پر کوئی اعتراض کی بھی وجہ نہیں ہے کیونکہ آنحضرت صلی علیہ نمک کا بھی یہی ارشاد ہے کہ قوم کے سرداروں کو مناسب مقام اور مرتبے کے لحاظ سے اعزاز دو۔لیکن اس میں اعتدال اس لحاظ سے ہونا چاہئے کہ جلسہ کی انتظامیہ اس حوالے سے جو بلا وجہ کئی قسم کی کیٹیگریز بنالیتی ہے اور اخراجات کو بڑھا لیا جاتا ہے اس پر کنٹرول ہونا چاہئے۔بعض دفعہ بعض خاص مارکیز اور جگہوں پر کوئی بھی نہیں ہوتا اور وہاں صرف کارکن ہی بیٹھے ہوتے ہیں۔پھر بعض دفعہ مجھے اطلاعیں ملتی ہیں تو VIP کے نام کا بھی بعض اوقات غلط استعمال شروع ہو گیا ہے یا ہو جاتا ہے۔تو اس طرف بھی انتظامیہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بہر حال بے شک خاص مہمانوں کے لئے خاص انتظام کریں لیکن جگہ ایک ہی بنانی چاہئے اور اس میں بھی اعتدال ہو۔پھر یہ کہ آپ کے دو ہی مقصد ہوتے تھے بلکہ تین کہنے چاہئیں، مہمانوں کی خدمت کے لئے ، مہمانوں کو وصول کر کے ان کی مہمان نوازی کے۔ایک تو یہ کہ مہمان نوازی کا حق تو ادا کرنا ہی ہے وہ تو ایک مومن پر فرض ہے۔لیکن اس کے علاوہ آپ کے دو مقاصد تھے کہ ایک مہمانوں کی تربیت کریں اور دوسرے تبلیغ۔پس جلسہ میں متعلقہ شعبہ جات کو اس طرف توجہ دیتے رہنا چاہئے۔جلسہ کے اوقات میں ڈیوٹی والے جو بھی کارکنان ہیں وہ شامل ہونے والوں کو پیار سے جلسہ کا پروگرام سننے کی طرف توجہ دلائیں۔جو ادھر ادھر پھر رہے ہوں ان کو نرمی سے سمجھائیں کہ آپ جلسہ گاہ میں چلے جائیں۔اسی طرح شعبہ تبلیغ کو اپنا کر دار ادا کرنا چاہئے۔