خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 390
خطبات مسرور جلد ہشتم 390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 آنے کی خبر دے دی تھی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہام کر کے مختلف موقعوں پر بار بار جو اس طرف توجہ دلائی ہے اس کا ذکر ہے۔وہ اس لئے بھی ہے کہ یہ کثرت تو اب بڑھتی جاتی ہے۔اس لئے آپ کے بعد خلافت کے نظام نے خلیفہ وقت نے اور نظام جماعت نے بھی اس اصل کو سامنے رکھنا ہے، اس تعلیم کو سامنے رکھنا ہے اور مہمان نوازی کے اس اہم کام کو بھولنا نہیں ہے۔پس یہ اہم کام جو ہمارے ذمہ ہے اور یہ اہم وصف ہے جو ہم میں سے خاص طور پر ہر اس شخص نے اپنانا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے مہمانوں کی خدمت کی توفیق دی ہے یا جو اپنے آپ کو مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کو صحابہ نے کس طرح دیکھا اور ہم تک پہنچایا۔کس طرز پر آپ مہمان نوازی فرمایا کرتے تھے۔آپ کی مہمان نوازی کے طریق کیا تھے؟ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اپنی ایک کتاب میں اس بارہ میں کچھ لکھا ہے۔جو کچھ باتیں انہوں نے نوٹ کیں، محسوس کیں اور ہم تک پہنچائیں، وہ اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔ایک تو یہ بتایا کہ آپ مہمانوں کے آنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔اور کارکنان لنگر خانہ کو ہدایت تھی کہ ان کے آرام کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔مہمانوں کی آمد سے، ان کے آنے پر آپ کو اطلاع دی جائے۔ان مہمانوں کے علاقوں کے لحاظ سے ان کی خوراک کا بھی خیال رکھا جائے۔اور اس کا خوراک کا خیال رکھنے کا مقصد کیا تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ اگر ان کی صحت ہی ٹھیک نہ رہے تو وہ لوگ دین کیا سیکھیں گے ؟ مہمان کے لئے آپ چاہتے تھے کہ مہمان اگر غیر ہے تو اس کو زیادہ دن روک کر احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔پھر یہ کہ مہمان ، تکلف کا برتاؤ نہیں ہوتا تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ مہمان بھی بے تکلفی سے اپنی ضروریات کا اظہار کر دیا کرے۔اور بے تکلفی میں بھی مہمان کی عزت اور تکریم کا پورا خیال رکھ جا تا تھا اور خدام کو یہ ہدایت فرماتے تھے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود جلد اول ص: 141-142 از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ) پھر آپ کی ایک خصوصیت تھی کہ مہمانوں کے آرام کے لئے ہر قسم کی قربانی فرماتے تھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے گھر کے لوگ لدھیانہ گئے ہوئے تھے، جون کا مہینہ تھا اور جون کا مہینہ پنجاب میں بڑا سخت گرمی کا مہینہ ہوتا ہے۔اس وقت ایک مکان یا مکان کا ایک حصہ نیا نیا بنا تھا تو مولوی صاحب کہتے ہیں وہاں ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی۔اس میں موسم بھی ، نسبتاً ذرا بہتر ہوتا ہے کیونکہ پانی وغیرہ کے استعمال کی وجہ سے ، نئی اینٹوں کی وجہ سے اس میں کچھ نہ کچھ ٹھنڈک ہوتی ہے۔جن لوگوں کو یہ سہولتیں یہاں میسر ہیں اور موسم بھی اچھا ہے ان کو وہ اندازہ نہیں ہو سکتا۔لیکن وہاں کے رہنے والے جو ہیں، پرانے لوگ جو آئے ہوئے ہیں، وہ صحیح اندازہ کر سکتے ہیں کہ گرمیوں میں نیا بنا ہو امکان کتنا آرام دہ لگتا ہے۔تو بہر حال مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی میں بھی اس پر لیٹ گیا۔اس وقت حضرت مسیح