خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 388
خطبات مسرور جلد ہشتم 388 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 اس وجہ سے خاص توجہ چاہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان جیسا کہ میں نے کہا دینی غرض کے لئے آتے ہیں۔اور دینی غرض کیا ہے؟ کہ آنحضرت صلی علی تم پر نازل ہوئے ہوئے دین کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کر کے اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور خدا تعالیٰ کا مقرب بننے کی کوشش کریں۔آنحضرت صلی ای ام اس غرض کے لئے آئے ہوئے مہمانوں کی مہمان نوازی کس طرح فرمایا کرتے تھے ؟ اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ مہمان آ گیا تو آنحضرت صلی یہ کام اپنے گھر میں پیغام بھیجتے ہیں، اپنی ہر بیوی کے گھر پیغامبر کو بھجواتے ہیں کہ آج میرا مہمان آگیا ہے، اس کے کھانے کا بندوبست کرو۔لیکن ہر بیوی کے گھر سے جواب ملتا ہے کہ آج تو ہمارا صرف پانی پر گزارا ہے، کھانے کی کوئی چیز نہیں۔اب دیکھیں یہاں، آپ کی بیویوں کے بھی صبر اور شکر کے انتہائی مقام کا پتہ چلتا ہے۔آپ صلی للی کم کی قوت قدسی کی وجہ سے کوئی واویلا نہیں۔کوئی ہلکا سا احساس بھی نہیں دلایا جارہا کہ آپ کے گھر والے بھوکے ہیں۔گویا اس حالت کا بھی پتہ چلتا ہے تو مہمان کے آنے کی وجہ سے پتہ چل رہا ہے۔تو بہر حال اس مہمان کو پھر ایک صحابی رسول صلی میں کم اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، اور وہ بھی کوئی امیر آدمی نہیں ہیں۔ان کے گھر میں بھی صرف بچوں کے لئے خوراک ہے۔وہ بچوں کو تو کسی طرح سلا دیتے ہیں، اور کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔اور خود چراغ بجھا کر اندھیرے میں اس طرح ظاہر کرتے ہیں، منہ چلا رہے ہیں، تاکہ مہمان کو بھی پتہ نہ چلے کہ وہ گھر والے بھی ساتھ کھانا کھا رہے ہیں کہ نہیں ؟ اس کو احساس نہ ہو کہ گھر والے میرے ساتھ کیوں شامل نہیں ہو رہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر بھی دیکھیں اپنے بندوں کے اس فعل پر کس طرح پڑتی ہے؟ کہ اس کی خبر اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول صلی للہ ہم کو دیتا ہے کہ اس مومن مرد اور مومن عورت کے عمل نے رات مجھے ہنسا دیا اور جس مومن کے فعل سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جائے اس کو تو دونوں جہان کی نعمتیں مل گئیں۔اس کے لئے ایک وقت کے کھانے کی قربانی کی کیا حیثیت ہے۔( بخاری کتاب مناقب الانصار باب قول اللہ و یونثرون علی احسهم و لو کان بہم خصاصة، حدیث نمبر 3798 ) کبھی ہم آنحضرت صلی اللہ نیلم کی مہمان نوازی کا یہ انداز بھی دیکھتے ہیں کہ ایک یہودی جو بستر گندا کر کے چلا جاتا ہے ، تو آپ خود اس کی صفائی کر رہے ہیں اور صحابہ کے کہنے پر کہ اے ہمارے پیارے! ہمارے ماں باپ آپ پر فداہوں ہمیں یہ کام کرنے دیں، تو آپ کہتے ہیں: نہیں، وہ مہمان میراتھا اس لئے میں یہ کام خود کر رہا ہوں۔پس مجھے یہ کام کرنے دو۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 370،371) پھر حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے ایک مومن جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے، اس کی تین نشانیاں بتائی ہیں۔پہلی بات یہ کہ عمدہ اخلاق کے حامل بن کر ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالو۔کسی کے لئے کسی قسم کی دل آزاری کی بات تمہارے منہ سے نہ نکلے۔کیونکہ بد اخلاقی ہمارے ایمان کو بھی