خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 387
خطبات مسرور جلد ہشتم 387 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 سکیورٹی کے ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ عارضی قیام گاہیں جو اجتماعی طور پر حدیقۃ المہدی میں یا اسلام آباد میں مارکیوں میں بنائی جاتی ہیں، یا مستقل۔( مستقل سے مراد ہے جو مسجد بیت الفتوح میں یا اور جگہ کہیں بھی)۔اسی طرح انفرادی خیموں کی قیام گاہیں ہیں جو لوگ خود بھی لگاتے ہیں۔خاص طور پر جو حدیقۃ المہدی اور اسلام آباد میں ہیں ان میں بعض دفعہ چوری کے اتحاد کا واقعات ہو جاتے ہیں۔اس لئے حفاظت کے انتظام کو خاص طور پر اس انتظام پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی چوری کے لئے اندر آسکتا ہے تو اور نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، اس کو ہمیشہ یاد رکھیں۔اس لئے قطع نظر اس کے کہ لوگوں کو آپ نے کہہ دیا کہ اپنا قیمتی سامان ساتھ لے جاؤ اور لوگ لے جاتے ہیں لیکن پھر بھی آپ نے حفاظت اور پہرے کے کام کو پوری طرح اور ذمہ داری سے اسی طرح بجا لانا ہے اور گہری نظر رکھتے ہوئے یہ کام کرنا ہے۔کسی بھی قسم کی ستی یالا پرواہی سے کام نہیں لینا ہے۔صرف چوری ہی نہیں بلکہ اور وجوہات کی وجہ سے بھی توجہ اور Vigilance کی ضرورت ہے اور پھر سکیورٹی والوں کو ہمیشہ پر اعتماد رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔کبھی کسی صورت میں بھی panicہونے کی ضرورت نہیں۔اسی طرح دوسری ڈیوٹی والے ہیں۔بعض دفعہ کھانے کے اوقات میں کھانے کی کمی اور مہمانوں کا رش ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً ایسا نہیں ہوتا ہے۔لیکن کیونکہ کھانا اور جگہ پک رہا ہو تا ہے اور جلسہ کے دنوں میں کھلایا اور جگہ جاتا ہے۔اس لئے اگر دیر ہو جائے تو تحمل سے مہمانوں کی تسلی کروایا کریں۔اسی طرح ٹرانسپورٹ ہے، جلسہ کے آنے اور جانے کے اوقات میں بسوں اور ٹرینوں پر رش ہو جاتا ہے۔کارکنان تحمل سے رہتے ہوئے اپنے فرائض بھی ادا کریں اور مہمانوں کو بھی صبر اور حوصلہ دلائیں۔یہ وقتی دقت ہے، مشکل کا سامنا ہو نا چاہئے۔مہمانوں کو حوصلہ دلائیں۔ان کو تلقین کریں۔غصہ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر اسی طرح اور شعبہ جات ہیں۔پانی کا شعبہ ہے، اس میں کمی بیشی ہو جاتی ہے۔گرمی آج کل زیادہ ہے، پانی کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے۔اگر موسم اچھا ہو تو ضرورت نہیں ہوتی لیکن اب تو یہاں بھی گرمی ہونے لگ گئی ہے اس لئے یہ بھی بڑا اہم شعبہ ہو گیا ہے۔علاوہ پینے کے پانی کے ٹائیلٹس وغیرہ میں غسل خانوں میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔تو یہ سب شعبے ایسے ہیں جہاں باوجود کارکنان کے تجربہ کار ہونے کے مہمانوں کی بے حوصلگی کی وجہ سے بعض دفعہ افراتفری کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے جہاں کارکنان کو اپنی حالت کو صحیح رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں مہمانوں کو بھی تحمل کے ساتھ صحیح رہنمائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ احسن رنگ میں سب کو اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔مہمان نوازی ایک تو ویسے بھی ایک مومن کا طرہ امتیاز ہے۔اور جو مہمان خالص دینی غرض سے آرہے ہوں اور جن کو زمانہ کے امام نے اپنا مہمان کہا ہو ، ان کی مہمان نوازی تو خاص طور پر بہت برکتیں لئے ہوئے ہے اور