خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 389

389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم داغدار کر دیتی ہے۔پس یا تو تم اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔اس سے جہاں تم خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والے بنو گے اور ایمان کی مضبوطی حاصل کرنے والے بنو گے وہاں معاشرے کے امن کی ضمانت بھی بن جاؤ گے۔دوسری بات اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے پڑوس کی عزت کرو۔اور پڑوسی کے حق کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑے واضح حکم دیتے ہیں، اور آنحضرت صلی السلام نے مومنین کو بھی یہی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کثرت سے پڑوسی سے حسن سلوک کرنے اور تعلق رکھنے اور اس کا حق ادا کرنے کا فرمایا ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ شاید پڑوسی وراثت میں بھی حق دار نہ بن جائے اور اس کو حصہ دار نہ بنا دیا جائے۔تو اللہ تعالیٰ نے پڑوسی صرف مستقل پڑوسی، گھروں کے ہمسایوں کو نہیں کہا بلکہ عارضی پڑوسیوں کا بھی ذکر ہے، اس کا بھی حق ادا کرنے کا ذکر ہے۔کچھ وقت کے لئے جو ساتھ بیٹھ گیا ہے وہ بھی ہمسائے کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا بھی حق ادا کرنے کا ذکر ہے اور یہاں تو ہم اپنے دینی بھائیوں کا حق ادا کر رہے ہیں۔ان کا حق ہم نے ادا کرنا ہے ، جو ان چند دنوں کی ہمسائیگی کے علاوہ بھی اپنا حق رکھتے ہیں۔پھر ایک مومن کی آنحضرت صلی علیم نے تیسری نشانی یہ بتائی ہے کہ وہ مہمان کا احترام کرتا ہے۔پس مہمان نوازی بھی ایمان میں مضبوطی اور اس کے اظہار کے لئے ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو پانے کا ذریعہ ہے۔( صحیح مسلم ، کتاب الایمان باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔، حدیث نمبر 78) جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مومنہ اور مومن کے عمل کو کس قدر خوشی سے دیکھا تھا۔کتنا خوشی کا اظہار کیا تھا کہ آنحضرت صلی یی کم کو بھی اس خوشی میں شامل فرمایا۔انہوں نے اپنی بھوک تو ایک طرف رہی، بچوں کی بھوک کو بھی مہمان کی مہمان نوازی پر ترجیح دی۔یہ نہیں کہا گیا کہ تم بچوں کیلئے کچھ رکھ لیتے ، بلکہ اپنے آپ کو اور بچوں کو تکلیف میں ڈال کر مہمان نوازی کرنے پر اللہ تعالیٰ نے خوشنودی کی ایک سند عطا فرما دی کہ یہی حقیقی مومن ہیں جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ہم نے تو یہاں صرف وقت اور جذبات کی تھوڑی سی قربانی دینی ہے ، جو بھی ہم ان کی تھوڑی بہت خدمت کرتے ہیں۔یہی اصول آنحضرت صلی علیہ یکم کے غلام صادق اور عاشق صادق نے آپ کی محبت اور پیروی میں اپنایا تھا کہ خدا تعالیٰ کی محبت کو سب سے بڑھ کر حاصل کرنے والے بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کوئی عارضی اور وقتی اور چند دنوں کی مہمان نوازی نہیں تھی بلکہ کثرت سے اور مستقل مہمان نوازی تھی۔اور آپ اس کا ہمیشہ حق ادا فرماتے تھے۔لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بارہ میں فرمایا کہ وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللهِ وَلَا تَسْتَمْ مِّنَ النَّاسِ۔اور جو لوگ تیرے پاس آئیں گے تجھے چاہئے کہ ان سے بد خلقی نہ کر اور ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جانا۔(تذکرہ، صفحہ 197 ایڈیشن چہارم) باوجود اس کے کہ آپ مہمان نوازی کی انتہا کرتے تھے اور ابتداء میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے