خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 378

خطبات مسرور جلد ہشتم 378 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 ساتھ لگا دو اور یہ میرے خزانے سے بھی اس کو دے دو۔اس نے آکر سر لگا دیا۔میں کلمہ پڑھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔اور میں نے کہا کہ جو کچھ حضور نے مجھے دیا ہے دے دو۔اس نے دینے سے انکار کر دیا۔( یہ خواب کا ہی قصہ سنار ہے ہیں۔اسی اثناء میں تمام رات گزر گئی۔صبح ہو گئی اور میں اٹھ بیٹھا۔پھر تیسرے دن رات دس گیارہ بجے کے قریب مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرا بدن کسی چیز سے دبایا گیا ہے اور مجھے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ میں سویا ہوا ہوں کہ میں جاگتا ہوں۔اتنے میں حضرت امام مہدی علیہ السلام میرے پاس آگئے اور فرمایا کہ کیا ہوا اگر اس نے نہیں دیا۔ہمارے پاس بہت ہے۔آپ ہاتھ باہر نکالیں۔میں نے ہاتھ باہر نکالا تو حضور نے میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔میں نے منہ میں ڈال لیا۔(کوئی چیز جو بھی تھی۔گویا کہ میں نے حضور کی بیعت اس طرح پر کی ہے۔پھر اس کے بعد میں ایک دفعہ قادیان آیا تو راستہ میں بٹالہ میں رات کے گیارہ بجے اتر اتو وہاں کوئی جگہ نہیں تھی ٹھہر نے کی۔میں حیرانگی سے مسافر خانے کے بر آمدے میں کھڑا ہو گیا کہ یا اللہ میں اب کہاں جاؤں۔لوگ جو گاڑی سے اترے تھے وہ اپنی اپنی جگہ چلے گئے۔پھر اس کے بعد ایک آدمی نکلا تو اس نے کہا کہ آپ نے کہاں جانا ہے ؟ اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کا انتظام کس طرح کرتا تھا؟ انہوں نے آگے یہ قصہ بیان کیا ہے۔) کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں نے جانا تو سکھر تھا لیکن اب میرا یہ ارادہ ہوا ہے کہ میں حضرت امام مہدی آخر الزمان کی زیارت کر کے جاؤں۔تو اس نے کہا کہ سکھر میں ایک آدمی بنام حسین بخش ہے آپ اس کو جانتے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ میں اس کو جانتا ہوں۔اس نے کہا کہ چلو اس کے مکان پر ٹھہریں صبح آپ چلے جانا۔میں اس کے ساتھ چلا گیا تو حسین بخش کے دروازے پر دستک دی تو وہ باہر آیا اور بہت خوشی سے ملا۔رات میں اس کے مکان پر ٹھہرا۔صبح جب میں وہاں سے اٹھ کر قادیان روانہ ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہ جانے دوں گا جب تک آپ میرے مکان پر کھانا نہ کھالیں۔پھر بازار گیا اور سبزی وغیر ہ لا کر اور پکا کر مجھے روٹی وغیرہ کھلائی۔پھر مجھے وہ یکے پر بٹھانے کے واسطے آیا تو تیلی دروازہ کے باہر ایک یگہ۔کھڑا تھا، قادیان جانے کی سواریاں تھیں اس میں بیٹھ گیا۔پہلے دو سواریاں اس میں بیٹھی ہوئی تھیں، تیسرا میں بیٹھ گیا۔یکے والے نے گھوڑا چلا دیا اس میں سے ایک آدمی تھا جس کی بہت لمبی داڑھی تھی مہندی لگائی ہوئی تھی۔اس نے مجھے پوچھا کہ آپ نے کس جگہ جانا ہے۔میں نے کہا کہ حضرت امام مہدی کی زیارت کرنے جانا ہے۔وہ کہنے لگا پتہ نہیں لوگ یہاں کیوں آتے ہیں۔لوگوں کے دماغوں کو کیا ہو گیا ہے۔وہ بٹالہ سے قادیان تک یہی باتیں کرتا آیا۔میں استغفار اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتا آیا تو قادیان جب اڈے خانہ پر اترے، آگے آگے وہ چلا پیچھے پیچھے میں چل پڑا۔مسجد مبارک کے نیچے جہاں لیٹر بکس لگا ہے وہ تو مرزاگل کے احاطہ کی طرف ہو گیا اور ایک آدمی مجھے ملا اور اس نے کہا کہ آپ نے کہاں جانا ہے تو میں نے کہا کہ میں نے حضرت نور الدین صاحب کو ملنا ہے۔تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ یہ میرے آگے آگے کون شخص تھا۔وہ کہتا ہے کہ یہ مرزا امام دین ہے ( جو گالیاں نکال رہے تھے