خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 379

خطبات مسرور جلد ہشتم 379 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو)۔پھر میں حضرت مولوی صاحب کے پاس چلا گیا۔ایک ڈاکٹر حسن علی کا رقعہ ہمراہ لایا تھا (جو پہلے احمدی تھے ) وہ دیا۔مولوی صاحب نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہاں بیٹھ جائیں۔میں وہاں بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد میرے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ حضرت صاحب مسجد میں آگئے ہیں۔تو مسجد مبارک میں داخل ہوئے تو ایک محراب تھا جو کہ چھوٹی سی کو ٹھڑی کی طرح تھا۔ایک طرف حضرت امام مہدی بیٹھے تھے اور دوسری طرف حضرت نور الدین صاحب بیٹھ گئے۔میرے متعلق حضور سے کہا کہ حضور یہ ڈاکٹر حسن علی کا پھوپھی زاد بھائی ہے اور بیعت کے واسطے آیا ہے۔پھر میں نے حضور کی بیعت کی اور میں حضور کو اپنے بچپن کے حالات سناتا رہا اور حضور سنتے رہے۔ایک تو میں نے عرض کیا کہ میرا چھوٹا بھائی ہے اس کے واسطے دعا کریں کہ وہ احمدی ہو جائیں۔میں نے اس کے واسطے اخبار بدر بھی جاری کر دیا ہے۔اور جو حضور کی کتب بھی ملتی ہیں وہ بھی اسے دیتا ہوں اور وہ اس کو ہاتھ نہیں لگانا پسند کرتا۔کہتا ہے کہ اس میں جادو بھرا ہوا ہے اور جو پڑھتا ہے وہ مرزائی ہو جاتا ہے۔حضور دعا فرماویں کہ وہ سلسلہ حقہ میں داخل ہو جائے۔حضور نے فرمایا آپ کے ارادے نیک ہیں۔خدا آپ کو بڑی کامیابی دے گا۔پھر حضور نے میری طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو میری ایک آنکھ خراب تھی اور سرخ ہوئی تھی۔حضور نے فرمایا کہ آپ کی یہ آنکھ کب سے خراب ہے۔تو میں نے عرض کیا کہ یہ بچپن سے میری آنکھ خراب ہے۔ایک دفعہ کوہ مری پہاڑ پر گیا تھا تو مجھے آرام آگیا تھا بعد میں پھر ویسی حالت ہو گئی۔حضور نے کہا کہ آپ کا کام کوہ مری میں اچھا چل سکتا ہے۔آپ کوہ مری میں کام کیا کریں۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں اب سکھر میں کام کرتا ہوں۔محنتی آدمی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ سکھر اور کوہ مری کا چھ سو یا سات سو میل کا فاصلہ ہے۔حضور نے فرمایا کہ آپ کو اللہ شفا دے گا۔تو معا مجھے (میری) آنکھ کو بالکل آرام ہو گیا۔اس کے بعد جب میں مسجد کے نیچے گیا تو تب مولوی صاحب کے پاس جا بیٹھا تو حضور (مولوی صاحب) نے مجھے اشارہ کہا کہ دوائی ڈلوالیں۔تو میں نے عرض کیا کہ اب تو مجھے بالکل آرام آگیا ہے۔پھر اس کے کچھ مدت بعد حضور لاہور تشریف لے گئے۔اگلی روایت یہ بیان کرتے ہیں۔ایک دن حضور کی ملاقات کے لئے ڈپٹی کمشنر اور پولیس کپتان آئے اور انہوں نے کہلا بھیجا کہ ہم ملاقات کے واسطے آئے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ مجھے زیادہ فرصت نہیں ہے۔ایک دومنٹ کے واسطے مل سکتا ہوں۔سیڑھی میں کھڑے ہو کر حضور نے ان کی ملاقات کی تو ان افسروں نے کہا کہ رات ہمیں رپورٹ پہنچی ہے کہ رات اینٹیں پڑی ہیں (یعنی کہ کسی نے اینٹیں پھینکی ہیں) اگر آپ چاہیں تو پولیس کا انتظام کر دیں۔حضور نے فرمایا کہ ہماری حفاظت خدا کر رہا ہے۔آپ جس طرح مناسب سمجھیں اپنا فرض ادا کریں۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔