خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد ہشتم 377 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 یہ احمدی نہیں ہوئے تھے اس وقت تک۔جب انہوں نے کتاب کھول کر دیکھی تو اس میں لکھا ہوا تھا۔خدا میرے میں ہے اور میں خدا میں ہوں۔میں نے یہ بات کتاب میں سے جا کر شیخ صاحب کو دکھائی اور زبانی میں نے کہا کہ یہ بات تو معمولی سی ہے۔جو آدمی شیطانی خیالات کا ہوتا ہے اسے تو ہمارے ملک میں مجسم شیطان بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔تو جور حمانی خیالات کا انسان ہے تو اس آدمی میں اگر رحمانی خیالات کی باتیں پائیں جائیں تو یہ کیا بڑی بات ہے ؟ تو وہ مجھے جواب میں کہتا ہے کہ لو بھائی یہ بھی مرزائی ہو گیا ہے۔تو میں نے ان کو جواب میں کہا کہ شیخ صاحب مرزائی تو بہت اچھی چیز ہے۔کہتے ہیں کہ مرزائی تو ہمارے ہاں روئی دار واسکٹ کو کہتے ہیں۔اگر کسی کو نمونیہ ہو جائے تو اس کے گلے میں ڈال دینے سے آرام آجاتا ہے۔بہر حال وہ سب میرے پہ ہنستے رہے اور کہنے لگے لو بھائی یہ مرزائی ہو گیا۔اسی طرح آج کل بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں سے توڑ مروڑ کر حوالے پیش کئے جاتے ہیں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ، جیسا کہ میں نے کہا اس میں جہاں نام نہاد علماء کا ہاتھ ہے ، وہاں ٹی وی چینلز کا اور میڈیا کا بھی ہاتھ ہے۔پڑھنے ہی نہیں دیتے اصل کتابیں۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں اپنی دوکان پر چلا گیا۔اس دن کے بعد رات کو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ امام مہدی آخر الزمان جو آنے والا تھا وہ آگیا ہے۔تو میں نے پوچھا کہ کس جگہ میں۔اس آدمی نے کہا کہ یہاں سے 25 کوس کے فاصلے پر ہیں۔اپنا خواب کا قصہ سنا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کس جگہ پر مہدی آیا ہے؟ اس آدمی نے کہا کہ یہاں سے 25 کوس کے فاصلے پر ہیں ، جنوب کی طرف۔تو میں اس آدمی کے کہنے پر جنوب کی طرف خواب میں روانہ ہو گیا۔تو آگے کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت امام مہدی گھوڑے پر سوار ہیں اور ان کے ساتھ دوسو سوار اور ہیں اور وہ آرہے ہیں۔تو میں نے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لے لو۔تو میں نے حضور کی بیعت کر لی اور حضور کے ساتھ روانہ ہو گیا اور حضور لاہور جاکر ٹھہرے اور میں نے عرض کیا کہ حضور آپ مجھے رکھ لیں۔حضور نے فرمایا کہ جو دین سے قطع تعلق کر دیتا ہے اسے دین سے کچھ نہیں ملتا۔دنیا میں رہ کر انسان کو دین حاصل کرنا چاہئے۔تو میں نے کہا یہاں نزدیک ہی شہر گوجر انوالہ ہے۔میں وہاں جا کر اپنی والدہ کو مل آؤں۔مجھے حضور نے اجازت دیدی۔پھر میں گوجرانوالہ گیا تو گوجرانوالہ میں اپنے مکان کی سیڑھی میں میں کہہ رہا ہوں کہ آخر الزمان امام مہدی آگیا ہے۔جس نے بیعت کرنی ہو یا زیارت کرنی ہو لاہور میں تشریف لے جائے۔پھر اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔کیا دیکھتا ہوں کہ سکھر میں ہوں۔سکھر میں خواب دیکھی تھی۔دوسرے دن پھر خواب میں دیکھا کہ سکھر میں اپنی دوکان میں ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام آسمان کی طرف کسی بلندی پر ٹھہرے ہوئے ہیں اور ایک آدمی کو فرمایا کہ یہاں ہمارا ایک غلام رہتا ہے اس کا سر لے آؤ۔جب اس آدمی نے مجھے آکر کہا تو میں نے اسے اپنا سر دونوں کانوں سے پکڑ کر دے دیا۔تھوڑی دیر کے بعد حضور نے فرمایا سر اس کے