خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد ہشتم 376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 اور سب مؤدب اسی پاک ہستی کی انتظار میں خاموش ہیں کہ اتنے میں اسی کھڑکی میں سے ایک مقدس، وجیہ اور پر شکوہ و جلال پیر مرد مسجد میں داخل ہوتا ہے۔اور ادھر اس نوجوان پر لرزہ طاری ہو کر آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی جاری ہو جاتی ہے۔لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیوں؟ صرف اس قدر ہوش ہے کہ حضور کا اس کھڑ کی سے ورود بعینہ ایسا معلوم ہو تا تھا کہ بدر کامل اندھیری رات میں نمودار ہو گیا جس سے سب تاریکی دور ہو گئی اور حاضرین کے چہروں پر انبساط کی لہریں دوڑنے لگیں۔اس موقع پر اکبر شاہ خان نے اپنے کچھ شعر بھی حضور کی تعریف میں سنائے جن کو حضور نے پسند فرمایا تھا۔بیعت کے بعد دوسرے دن میں واپس ہو گیا کیونکہ حاضری کے تھوڑے دن تھے۔پھر 1907ء کے موسم میں یعنی موسم گرما میں جب والد صاحب امر تسر آئے اور بیمار تھے تو ان کو قادیان لایا اور حضور کے ساتھ تعارف کروا کر ان کی صحت کے واسطے عرض کی گئی۔یہ بھی کوشش تھی کہ وہ بیعت کر لیں گے لیکن افسوس کہ والد صاحب بزگوار اس نعمت سے محروم رہے۔حضور نے دعا فرمائی اور مولوی صاحب حضرت خلیفتہ المسیح اول سے نسخہ لینے کی بھی ہدایت فرمائی۔چنانچہ نسخہ لینے کے بعد ہم واپس امر تسر چلے گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح اول نے بھی والد صاحب کو تسلی دینے کی غرض سے اپنے بچوں کی فوتیدگی کے حالات سنائے لیکن چونکہ والد صاحب کا دل اپنی لمبی بیماریوں کے باعث بہت ہی کمزور ہو چکا تھا ان کے آنسو جاری رہے۔ان کو میرے پہلے بچہ کی مرگ کا سخت صدمہ تھا۔( اس کی وجہ سے افسوس کرتے رہتے تھے۔) لکھتے ہیں کہ افسوس کہ مجھے حضرت جری اللہ کا دیکھنا پھر نصیب نہ ہوا۔اور مجھ پر وہ دن سخت تلخ تھا جبکہ حضور کے وصال کی خبر بدر اخبار کے ذریعہ مجھے بنوں میں ہوئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات (غیر مطبوع) نمبر 5 صفحہ 94 تا 96) حضرت محمد حسین خان ٹیلر ابن مکرم خدا بخش صاحب سکنہ گوجرانوالہ ، بیعت 1897ء۔یہ لکھتے ہیں کہ مجھے بچپن میں کشتی دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن میں کشتی دیکھ کر آیا تو خواجے وہاں کوئی رہتے تھے۔وہاں کسی خواجے کے گھر کوئی مہمان لاڑکانہ سے آیا تھا۔اس سے وہ دریافت کر رہے تھے کہ لاڑکانہ کے حالات سناؤ۔تو اس نے کہا کہ میں نے ایک نئی بات سنی ہے کہ ہمارے لاڑکانہ میں ایک مولوی نے تقریر کی ہے۔تقریر میں اسی مولوی نے کہا زیادہ تعلیم پڑھنے سے بھی آدمی کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور اس نے کہا کہ قادیان میں ایک مرزا ہے جو فرماتا ہے کہ میں خدا ہوں۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب نے کسی کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے یا یونہی زبانی کہا ہے۔تو اس نے کہا کہ براہین احمدیہ کا حوالہ دیتا تھا کہ اس میں لکھا ہے۔تو میں نے وہاں سکھر میں ایک احمدی تلاش کیا اس کا نام محمد حیات تھا۔وہ چنیوٹ کا رہنے والا تھا۔اس سے میں نے جا کر دریافت کیا کہ تمہارے پاس براہین احمدیہ ہے ؟ تو اس نے کہا کہ ہے۔تو میں نے اسے کہا کہ ذرا کھول کر دکھائیں کہ جہاں حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں خدا ہوں۔