خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 375

خطبات مسرور جلد ہشتم 375 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 حضرت شیخ اللہ بخش صاحب سکنہ بنوں صوبہ سرحد، بیعت 1905ء کی ہے۔لکھتے ہیں کہ بچپن میں مجھے کوئی مذہبی تعلیم نہیں دی گئی اور چھوٹی عمر میں ہی سکول میں داخل کر دیا گیا تھا لیکن جب اینز فیس میں پہنچا اور اس وقت میں عمر کے ستارویں (17 ویں) سال میں تھا تو قدر تأمیرے دل میں تحریک پیدا ہو ئی کہ اپنے مذہب کے متعلق واقفیت حاصل کروں۔چنانچہ میں نے ایک مُلاں سے قرآن شریف پڑھنے کے بعد خود بخود مترجم قرآن شریف کا مطالعہ شروع کیا۔اسی دوران میں نامعلوم کس طرح کسی عیسائی کی ایک کتاب جس میں کسی مصری مولوی کے ساتھ مباحثہ کی صورت میں اعتراضات و جوابات درج تھے وہ میری نظر سے گزرے جس کے پڑھنے سے مجھے سخت دکھ ہوا کیونکہ اس میں ہر لحاظ مجھے حضرت عیسی کا درجہ رسول کریم صلی ا کرم سے افضل نظر آنے لگا اور دل میں طرح طرح کے وساوس پیدا ہوئے۔مگر کچھ شرم اور کچھ اپنی بیوقوفی کے باعث اس کا ذکر نہ ہی اپنے والد صاحب کے ساتھ کر سکا اور نہ ہی کسی مولوی کے ساتھ اور اس خلش کو دل ہی دل میں لئے رہا۔یہاں تک کہ 1905ء کے آخری مہینوں میں جب میں وانون میں ملازم تھا مجھے ڈاکٹر علم الدین صاحب گجراتی سے بدر اخبار کے کچھ پرچے دیکھنے اور حضرت مسیح کی وفات کے دلائل سننے کا اتفاق ہوا اور جوں ہی مسیح کی وفات مجھ پر ثابت ہو گئی میں نے خدا کا شکر کیا اور بغیر کسی مزید توقف کے فوراً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔اس کا علم ہونے پر والد صاحب نے کچھ ناراضگی اور افسوس کا خط لکھا جس پر ان کو ان کی وہ دعا یاد کرائی گئی جو انہوں نے میری پیدائش سے پہلے کی تھی اور جس کا ذکر میرے والد صاحب چند بار گھر میں اس طرح کر چکے تھے کہ جب پہلے بچہ کی پیدائش کے بعد بارہ سال تک ہمارے ہاں کوئی بچہ نہ ہو ا تو ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور بڑی خشوع و خضوع کے ساتھ ان الفاظ میں دعا کی کہ ”اے ارحم الراحمین اور وہاب خدا جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بڑھاپے میں آواز سنی اور اس کو اولاد دی میری فریاد بھی سن اور اولاد نرینہ عطا فرما۔یہ ان کے والد صاحب نے دعا کی۔کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب کو ان کی یہ دعا یاد کرواتے ہوئے لکھا کہ آپ کی دعا کی حقیقی قبولیت اب ہوئی ہے جبکہ خدا نے اپنے فضل سے مجھے ہلاکت کے گڑھے سے نجات بخش کر اپنے مامور کی غلامی کا شرف بخشا ہے۔لکھتے ہیں کہ غالباً 1906ء کے اپریل میں میری تبدیلی اس جگہ سے اپنے وطن مالوف بنوں میں ہوئی اور اپنی نوکری پر حاضر ہونے سے قبل میں نے قادیان شریف میں حاضر ہو کر مسجد مبارک میں حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔بیعت کے وقت کا نقشہ اور اپنے دل کی کیفیت مختصر الفاظ میں اس طرح پیش کرتا ہوں کہ ایک آزاد خیال اور لا مذہب نوجوان اپنے نفس امارہ کی تمام امنگوں اور سرکشیوں کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو کر مامور وقت کے دروازہ پر استمداد کے واسطے حاضر ہے اور اس کے انتظار میں اس کی آنکھیں بے قرار ایک چھوٹی سی کھٹر کی پر پیوست ہیں۔وہ کھڑی جہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا کرتے تھے۔) مسجد میں بہت تھوڑے آدمی ہیں