خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 344

خطبات مسرور جلد ہشتم 344 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 شہید مرحوم بی اے، بی ایڈ کے بعد محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور لاہور میں تعینات تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 59 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔روزانہ قصور سے بسلسلہ ملازمت لاہور آتے تھے۔نماز جمعہ مسجد دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز مین ہال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دہشتگر دوں کے حملے کے دوران امیر صاحب ضلع قصور کو بذریعہ فون اطلاع دی کہ مسجد دارالذکر پر دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ہے۔تھوڑی دیر بعد فون کیا کہ مجھے گولیاں لگ گئی ہیں اور میں شدید زخمی ہوں۔بعد میں بیٹے سے بھی سوا تین بجے بات ہوئی اور صورتحال سے آگاہ کیا اور دعا کے لئے کہا۔اس کے بعد ایک اور دوست نے رابطے کی کوشش کی تو آگے سے اللہ اللہ کی آواز آرہی تھی۔زخمی ہونے کی وجہ سے خون زیادہ بہہ جانے اور زخموں کی وجہ سے جام شہادت نوش فرما گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم مثالی انسان تھے۔آپ کے اخلاق کی وجہ سے محلے میں کبھی کسی کو کھل کر مخالفت کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔جماعت کے ساتھ خصوصی لگاؤ تھا۔فراخ دل اور مہمان نواز تھے۔غریبوں کی بہت مدد کیا کرتے تھے۔جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ایک غیر احمدی خاتون روتی ہوئی آئیں اور کہا کہ ان کے بعد میر ا اور میرے بوڑھے خاوند کا کون سہارا ہو گا؟ نماز سینٹر قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔نماز تہجد اور باجماعت نماز کے پابند تھے۔جماعتی پروگرامز کا اہتمام خود کرتے۔مربی صاحب ضلع قصور نے بتایا کہ سانحہ کے روز سکول سے تعطیلات ہو گئی تھیں۔اگر چاہتے تو آرام سے قصور پہنچ کر جمعہ پڑھ سکتے تھے، لیکن انہوں نے کسی سے ذکر کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں آخری جمعہ دارالذکر میں ہی پڑھ کر جاؤں کیونکہ اس کے بعد تو چھٹیاں ہو جائیں گی۔شہید مرحوم نے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ میں کسی بہت ہی اچھی جگہ میں جا رہا ہوں۔بعد میں اہلیہ سے مذاقا کہا کہ اب تو دل چاہتا ہے کہ جنت میں ہی چلا جاؤں۔سال میں دو ایک مرتبہ کھانے کی دیگیں پکوا کر مستحقین میں تقسیم کیا کرتے تھے۔مربی صاحب لکھتے ہیں کہ خاکسار کو قصور میں چار سال تک بطور مربی سلسلہ کام کا موقع ملا۔مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید کو احمدیت کی غیرت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات یا جماعت احمدیہ پر کسی بھی قسم کے اعتراض کے جواب میں منفرد شخصیت کا مالک پایا۔آپ چونکہ ٹیچنگ (Teaching) کے پیشہ سے منسلک تھے اس لئے وہاں پر دوسرے اساتذہ کے ساتھ جماعتی موضوعات پر بحث رہتی تھی۔کسی بھی اعتراض یا سوال کے جواب کے لئے مکرم مبارک علی اعوان صاحب اُس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے تھے جب تک اس کا کافی و شافی جواب حاصل نہ کر لیتے۔اور جب ان کو سیر حاصل بحث کے بعد جواب دے دیا جاتا تو ان کے چہرے پر عجیب طمانیت اور بشاشت دیکھنے کو ملتی گویا سمندر طغیانی کے بعد سکون کی حالت میں آ گیا ہو۔اسی طرح آپ جماعت اور اپنے عزیز رشتے داروں کے متعلق نہایت رقیق القلب اور ہمدرد تھے۔غلطی خواہ دوسرے کی ہو، وہ خود جا کر معذرت کرتے اور پھر پہلے سے بڑھ کر اس سے ہمدردی کا سلوک کرتے۔