خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 345
خطبات مسرور جلد ہشتم 345 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 مکرم عتیق الرحمن صاحب اگلا ذکر ہے مکرم عقیق الرحمن صاحب ظفر شہید ابن مکرم محمد شفیع صاحب کا۔شہید مرحوم سیداں والی غربی ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔1998ء سے مانانوالہ ضلع شیخوپورہ میں مقیم تھے۔1988ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ان کے ایک سال بعد ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی۔ذاتی کاروبار تھا، کچھ عرصہ دبئی میں بھی رہے۔2009ء کے آغاز میں پاکستان واپس آگئے۔پچھلے قریباً چھ ماہ سے مکرم امیر صاحب ضلع لاہور کے ساتھ بحیثیت ڈرائیور ڈیوٹی کر رہے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 55 سال تھی مسجد دارالذکر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔مسجد دارالذکر کے مین ہال میں بیٹھے تھے کہ ان کے قریب ہی گرنیڈ پھٹا۔اہل خانہ کو فون کر کے حملہ کی اطلاع دی۔اسی دوران ان کو گولیاں لگیں جس سے فون گر گیا اور دوبارہ بات نہ ہو سکی اور ساتھ ہی شہادت ہو گئی۔شہید مرحوم کے غیر احمدی بھائیوں کا مطالبہ تھا کہ ان کی تدفین آبائی گاؤں میں ہو ، جبکہ اہلیہ نے کہا کہ شہید مرحوم چونکہ احمدی ہیں اور شہید کی خواہش چونکہ ربوہ شفٹ ہونے کی تھی لہذار بوہ میں تدفین کی جائے جس پر بھائی مان گئے اور ربوہ میں ہی تدفین ہوئی۔شہید مرحوم کی بیعت سے پہلے ان کی بیٹی نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے گھر آئے ہیں اور گلاب کے پودے لگارہے ہیں اور بعد میں میں اور میرے ابو ان پودوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پانی دیتے ہیں۔کچھ عرصہ بعد یہ خاندان احمد کی ہو گیا۔بیعت کرنے کے بعد ان کے والدین نے انہیں عاق کر کے گھر سے نکال دیا۔دیگر رشتے دار اور اہل محلہ بھی ان کے ساتھ بد زبانی کرتے ، گالیاں دیتے، پتھر مارتے۔بالآخر انہوں نے ایک احمدی گھرانے میں پناہ لی۔اللہ تعالیٰ خاندانوں کے لئے بھی تسلی کے سامان پیدا فرماتا ہے ، خوابوں کے ذریعے تسلی دیتا ہے۔ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ایک روز قبل میں نے خواب دیکھا کہ گھر اور باہر ہر جگہ بہت زیادہ ہجوم ہے۔دوسری بیٹی مریم نے ایک روز خواب دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث تشریف لائے ہیں اور ہمارے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار دے رہے ہیں۔پھر تیسری بیٹی نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا کہ ایک جنگل ہے جہاں بہت خطرناک بھینسیں اور جانور ہیں اور میں ڈر کر بھاگ رہی ہوں کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نظر آتے ہیں، میں بھاگ کر ان کے گلے لگ جاتی ہوں۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم ہمیشہ باوضو رہتے تھے۔ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے تھے۔بہت محنتی تھے۔نماز تہجد پڑھنے کے بعد ڈیوٹی پر چلے جاتے اور پھر رات کو لیٹ واپس آتے۔جب پوچھا گیا کہ آپ تھکتے نہیں، تو کہتے کہ میں ہر وقت درود شریف پڑھتارہتا ہوں جس سے تھکاوٹ نہیں ہوتی۔کبھی تبلیغ کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔رشتے داروں اور دوستوں میں بیٹھ کر باتوں کا رخ ہمیشہ تبلیغ کی طرف کر دیا کرتے تھے۔دبئی میں دو فیملیوں کو بیعت کروا کر جماعت احمدیہ میں شامل کرنے کی سعادت پائی۔مکرم محمود احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم محمود احمد صاحب شہید ابن مکرم مجید احمد صاحب کا۔شہید مرحوم کے دادا مکرم عمر دین