خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 343

خطبات مسرور جلد ہشتم 343 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 احمد کی دوست بھی کام کرتے تھے۔ان کو ہر جمعہ پر اپنے ساتھ لے کر جاتے۔سانحہ کے روز کہا کہ ہر جمعہ پر آپ مجھے لیٹ کروا دیتے ہیں، آج کسی صورت بھی لیٹ نہیں ہونا۔اور باقاعدہ لڑائی کر کے بحث کر کے ، اپنے دوست کو جمعہ کے لئے جلدی لے کر گئے۔مسجد پہنچ کر پہلی صف میں سنتیں ادا کیں۔حملے کے دوران اپنے دفتر فون کر کے کہا کہ میں بہت زیادہ زخمی ہو گیا ہوں ، خون کافی بہہ گیا ہے، مجھے بچانے کی کوشش کریں۔گھر سے والدہ نے فون کیا تو ان کو بھی یہی کہا کہ کسی کو بھیجیں تاکہ ہمیں یہاں سے نکال سکے۔اہلیہ سے گفتگو کے دوران بھی گولیاں چلنے کی آواز میں انہوں نے سنیں۔پھر ان کی آواز بند ہو گئی۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے بتایا کہ بہت زیادہ حساس طبیعت کے مالک تھے۔شہادت سے ایک ہفتہ قبل مجھ سے کہا کہ آپ بچوں کا خیال رکھا کریں، بچوں کی ذمہ داری آپ بہتر طریقے سے نبھا سکتی ہیں۔اب میں شاید بچوں کو زیادہ وقت نہ دے سکوں۔بچوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ اٹیچ (Attach) کروتا کہ یہ مجھے یاد نہ کریں۔شہادت کے روز صبح کے وقت کہا کہ بیٹا شانزیب محسن ( جو صحتمند اور خوبصورت ہے) جب تین سال کا ہو جائے گا تو اسے ہم نے ربوہ بھیج دینا ہے اور جماعت کو پیش کرنا ہے۔وہ اسے جو چاہیں بنا لیں۔کچھ عرصہ قبل ایک پڑوسی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔وہ موٹر سائیکل چلانے کے قابل نہیں رہے تھے۔شہید مرحوم کافی عرصہ مسلسل ان کو گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر واپس لاتے رہے۔مذکورہ پڑوسی کی والدہ نے جب شکر یہ ادا کرنے کی کوشش کی تو کہا کہ جب تک میری سانس ہے میں آپ کے بیٹے کو ساتھ لے کر جاتا اور آتار ہوں گا، شکریہ کی کوئی بات نہیں۔ایک مربی صاحب نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ منصور احمد صاحب شہید سادہ مزاج، نہایت مخلص اور نظام خلافت سے محبت اور وفا کا تعلق رکھنے والے تھے۔موصوف اپنے وقف نو بچوں کو بڑی باقاعدگی کے ساتھ وقف نو کی کلاس میں شامل کرتے تھے۔ان کے بچوں کو خلافت کے ساتھ محبت و عقیدت پر مبنی بڑی لمبی لمبی نظمیں یاد ہیں۔بڑی بچی جس کی عمر پانچ سال ہے، بہت خوش الحانی اور سوز و گداز کے ساتھ نظم پڑھتی ہے۔خاکسار نے ایک دفعہ کلاس کے موقع پر مکرم منصور احمد صاحب شہید سے پوچھا کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو آپ نے اتنی لمبی لمبی نظمیں کیسے یاد کروادیں ؟ تو کہنے لگے کہ یہ نظمیں میں نے اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کی ہوئی ہیں اور بچے ہر وقت سنتے رہتے ہیں۔ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچے جلدی سیکھ جائیں اور جماعت میں نام پیدا کریں۔وہ لوگ جو اپنے موبائل میں میوزک اور مختلف چیزیں بھر لیتے ہیں ان کے لئے اس میں ایک سبق ہے۔مکرم مبارک علی اعوان صاحب اگلا ذ کر ہے مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید ابن مکرم عبد الرزاق صاحب کا۔شہید مرحوم قصور کے رہنے والے تھے۔آپ کے دادا مکرم میاں نظام دین صاحب اور پڑدادا نے خاندان میں سب سے پہلے شدید مخالفت کے باوجود بیعت کی تھی۔مرحوم کے نانا حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔