خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 342

خطبات مسرور جلد ہشتم 342 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 بہت زیادہ وابستہ ہو گئے تھے۔انصار اللہ کی کوئی بھی تقریب ہوتی تو ضرور شرکت کرتے اور ہمیشہ سب سے آگے بیٹھے ہوتے۔ان کے بیٹے نے کہا کہ انہوں نے مجھے مسجد سے فون کیا لیکن میں مصروف تھا تو میں نے فون ریسیو نہیں کیا۔پھر مجھے پتہ لگا کہ مسجد میں اس طرح فساد ہو رہا ہے۔جب میں گھر آیا تو میں نے ان کو فون کیا۔انہوں نے مجھے بھی کہا کہ یہاں بہت فائرنگ ہو رہی ہے ، آپ ہمارے لئے بہت دعا کریں۔میں نے کہا کہ ابو جی اپنا خیال رکھنا۔اس وقت بھی انہوں نے ہنس کر جواب دیا کہ کیا خیال رکھوں، خیال تو اللہ میاں نے رکھنا ہے ، آپ بس دعائیں کریں۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے ، ان کی اہلیہ تو احمدی تھیں، بیٹا کہتا ہے کہ اگر میری ماں کو کبھی جماعت کا لٹریچر پڑھتے دیکھ لیتے تھے تو بہت غصہ آتا اور انہوں نے میری ماں کو سختی سے کہہ دیا تھا کہ یہاں احمدیوں کی کوئی کتاب نظر نہیں آنی چاہئے۔پھر ایک دفعہ احمدی رشتے داروں کے پاس ملتان گئے۔کہتے ہیں کہ میری ممانی بتاتی ہیں کہ وہاں انہوں نے گلشن وقف نو کا پروگرام دیکھا جو ایم ٹی اے پر آرہا تھا۔تو اگلے دن ان سے ہی جن کے گھر مہمان گئے تھے دوبارہ پوچھا کہ وہ جو کل پروگرام لگا ہو ا تھا وہ روز لگتا ہے ؟ ممانی نے کہا: جی روز لگتا ہے۔تو بیٹا کہتا ہے کہ ابو نے کہا اچھا پھر اس کو دوبارہ لگائیں۔پھر کچھ عرصہ بعد ماموں کے کہنے پر میری مامانے ابو کو ڈش لگانے کا کہا تو فور آ گئے اور خود ڈش لا کر لگائی اور ایم ٹی اے سیٹ کیا۔خطبات نہایت شوق سے سنتے تھے۔پھر ابو نے مارچ 2009ء میں بیعت کر لی۔یہ بیٹے کا بیان ہے۔پھر یہ بیٹا کہتا ہے کہ جب پیارے ابو شہید ہوئے تو اس وقت بھی انہوں نے چندہ دیا ہوا تھا لیکن اس کی رسید ان کی شہادت کے بعد مربی صاحب نے ہمیں دی۔پھر بیٹا لکھتا ہے کہ انا کی شہادت کے بعد ہمارے محلے میں مخالفت شروع ہو گئی ہے اور فتووں کے پوسٹر اور شکر وغیرہ چسپاں ہو رہے ہیں اور پمفلٹ بانٹے جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔مکرم منصور احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم منصور احمد صاحب شہید ابن مکرم عبد الحمید جاوید صاحب کا۔شہید مر حوم کے خاندان کا تعلق شاہدرہ لاہور سے ہے۔ان کے پڑدادا مکرم غلام احمد صاحب ماسٹر تھے۔غالباً حضرت خلیفہ المسیح الاول کے دورِ خلافت میں بیعت کی تھی۔1953ء میں ان کے مکانات کو آگ لگا دی گئی جس کے بعد ربوہ چلے گئے۔پھر والد صاحب 1970ء کے قریب کراچی چلے گئے۔1974ء میں کراچی میں ان کے والد محترم کی دکان کو آگ لگادی گئی جس کے بعد یہ لاہور شفٹ ہو گئے۔شہید مرحوم امپورٹ ایکسپورٹ کی ایک فرم میں ملازمت کرتے تھے۔باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کا ایک بھائی مانچسٹر میں تھا۔کچھ دنوں سے کہہ رہے تھے کہ میں نے ربوہ سیٹ ہونا ہے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 36 برس تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام وصیت میں بھی شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم کے دفتر والے جو ان کی بہت تعریف بھی کر رہے تھے ، بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایک اور