خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 341
خطبات مسرور جلد ہشتم 341 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 کے حق دار تھے اور مجھے اس پر فخر ہے۔میری ساری اولاد بھی احمدیت کے لئے قربان ہو جائے تو مجھے رتی بھر بھی ملال نہیں ہو گا بلکہ میں خدا کی بے انتہا شکر گزار ہوں گی۔شہید مرحوم کے بیٹے نے بتایا کہ ابو کی شہادت سے چند روز قبل میرے ماموں طاہر محمود صاحب نے خواب دیکھا اور جب فجر کی نماز کے لئے بیدار ہوئے تو بتایا کہ مجھے خواب تو یاد نہیں، بس ایک جملہ یادرہا ہے ” پہاڑوں کے پیچھے چھوڑ آئے اور جب ہم ابو شہید کو ربوہ ہمیشہ کے لئے چھوڑنے جارہے تھے تو پہاڑوں میں گھری اس وادی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا خواب بیان کیا۔پہلی دفعہ ربوہ گئے تھے اور پھر ہمیشہ کے لئے وہیں رہ گئے۔بیٹے نے مزید بتایا کہ ابو ابتدا میں تو جماعت کے شدید مخالف تھے لیکن پھر خدا تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ بچے دل سے احمدیت قبول کی اور اخلاص، تقویٰ اور ایمانداری میں اس قدر بڑھ گئے کہ بیعت کے صرف ایک سال بعد ہی شہادت کا بلند مرتبہ پایا۔ایک سال میں ہی جماعت سے بے پناہ لگاؤ ہو گیا تھا۔ڈش انٹینا لگوا کر ایم ٹی اے بڑے شوق سے سنتے تھے۔کس طرح بیعت کی ؟ یہ بھی ان کی عجیب کہانی ہے۔اس کا ذکر آگے آتا ہے۔ان کے ملنے والے نے ایک خط میں ذکر کیا ہے کہ سانحہ لاہور میں ایک ایسے وجود نے بھی جامِ شہادت نوش کیا جس کو بیعت کی توفیق تو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ سال ہی عطا فرمائی تھی لیکن اس تھوڑے سے عرصہ ہی میں ان کو خلافت سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ جب بھی وہ ایم ٹی اے پر میرا کوئی پروگرام دیکھتے تھے، تو چہرے کو زوم (Zoom) کر کے سکرین پر لے آتے تھے اور جماعت سے اتنا گہرا تعلق ہو گیا تھا کہ ہمیشہ دارالذکر میں ہی جا کر جمعہ پڑھتے تھے۔اور باوجود یہ کہ قریب ہی مسجد تھی، کہتے تھے کہ مجھے وہیں جانا ہے۔کچھ دن پہلے تلاوت کے کسی مقابلے میں حصہ لیا اور پہلا انعام حاصل کیا اور انعام میں ایک جائے نماز ملی جس پر بہت خوش تھے۔یہ ان کی بیوی کے بھائی کا خط ہے۔کہتے ہیں کہ خاکسار کے بہت مخلص، سادہ طبیعت اور پیارے بہنوئی کی یہ باتیں خاکسار کی ہمشیرہ نے ان کی شہادت کے بعد بتائیں۔میرے بہنوئی اپنے خاندان کے پہلے احمدی تھے۔ان کے رشتے داروں کی طرف سے مخالفت تھی۔بہت زیادہ ہنس مکھ اور ہر کسی کا خیال رکھنے والے تھے۔ہر کسی کے غم یا خوشی میں سب سے آگے ہوتے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ مارچ 2009ء میں بیعت کی تھی۔میں پیدائشی احمدی ہوں اور میرے بچوں اور میاں نے اکٹھے بیعت کی تھی۔میری شادی کے بعد احمدیت کے بہت بڑے مخالف تھے بلکہ پورا سسرال ہی مخالف تھا لیکن ظفر صاحب تب بھی نماز کے بہت پابند اور بہت اچھے اخلاق کے مالک تھے۔دس سال تک سعودی عرب رہے۔ماشاء اللہ پانچ حج اور لاتعداد عمرے کئے۔1986ء میں پھر سے پاکستان آگئے۔احمدیت میں آنے سے پہلے بھی بحیثیت شوہر کے انتہائی پیار کرنے والے شوہر اور باپ تھے۔اپنے بچوں کے علاوہ دوسرے بچوں سے بھی بے حد پیار کرتے تھے۔احمدیت میں آنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ نمازوں کی پابندی اور تہجد کی پابندی کرنے لگے۔کتابیں پڑھنے کا زیادہ شوق نہیں تھا لیکن بیعت کرنے کے بعد سونے سے پہلے اکثر مجھے کہتے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب پڑھ کر سناؤ، یاخود پڑھ کر سوتے تھے۔ایک دوماہ پہلے ہم سب گھر والوں نے نوٹ کیا تھا، احمدیت سے۔