خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 320

320 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم دوہرایا۔مسجد دارالذکر میں ہی نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے اور سانحہ کے روز بھی اپنے کام سے سیدھے ہی نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے دارالذکر پہنچ گئے۔باہر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے رہے۔دہشتگردوں کے آنے پر گھر فون کیا اور بڑے بھائی سے کہا کہ اسلحہ لے کر فوری طور پر دارالذکر پہنچ جاؤ۔اور یہ ساتھ ساتھ اپنے ٹی وی کو فون پر رپورٹنگ بھی کر رہے تھے۔اسی دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ ہمدرد اور ملنسار انسان تھے۔سب کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔چندہ جات کی ادائیگی با قاعدہ تھی اور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔حلقہ کے ناظم اطفال تھے ان کے بارے میں ناظم اطفال نے بتایا کہ میں جب بھی ان کے بچوں کو و قارِ عمل یا جماعتی ڈیوٹی کے لئے لے کر گیا اور جب واپس چھوڑنے آیا تو انہوں نے خصوصی طور پر میر اشکرایہ ادا کیا کہ آپ نے ہمیں یہ خدمت کا موقع دیا۔مکرم شیخ ندیم احمد طارق صاحب اگلا ذکر ہے مکرم شیخ ندیم احمد طارق صاحب شہید ابن مکرم شیخ محمد منشاء صاحب۔شہید کے آباؤ اجداد چنیوٹ کے رہنے والے تھے۔کاروبار کے سلسلے میں کلکتہ چلے گئے ، 1947ء کے بعد ان کے والد صاحب کلکتہ سے ڈھاکہ چلے گئے جہاں سے 1971ء میں لاہور آگئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ صاحبہ کا تعلق بھی کلکتہ سے ہے۔اہلیہ کے دادا مکرم سیٹھ محمد یوسف صاحب بانی تھے جو مکرم صدیق بانی صاحب کلکتہ کے چھوٹے بھائی تھے۔شہید مرحوم نے آئی کام کرنے کے بعد سپیئر پارٹس کا کاروبار شروع کیا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 40 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ہمیشہ دارالذکر میں ہی جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔اور میرے خطبہ جمعہ تک جو لائیو نشر ہو تا ہے وہیں رہتے تھے اور وہ سن کر آیا کرتے تھے۔سانحہ کے وقت یہ امیر صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔دایاں بازو بہت سو جا ہوا تھا۔باقی جسم پر کوئی زخم نہیں تھا۔غالب خیال یہی ہے کہ بازو میں گولی جو لگی ہے تو خون بہہ جانے کی وجہ سے شہید ہوئے۔بہت صلح پسند ، شریف اور بے ضرر اور نرم گفتار انسان تھے۔کام پر ہوتے تو بچوں کو فون کر کے نماز کی ادائیگی کا پوچھتے۔کام پر بیٹھے ہوئے ہیں، نماز کا وقت ہو گیا تو ھر بچوں کو فون کرتے تھے کہ نماز ادا کرو۔یہ ہے ذمہ داری جو ہر باپ کو ادا کرنی چاہئے۔اسی سے دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی عادت پڑتی ہے۔نماز تہجد کا بہت خیال رکھتے تھے قریباً چار کلو میٹر دور جاکر نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔یہاں یہ فاصلے اتنے نہیں لگتے کیونکہ سڑکیں بھی ہیں، سواریاں بھی ہیں۔لیکن گو وہاں سواری تو ان کے پاس تھی لیکن حالات ایسے ہیں ٹریفک ایسا ہے کہ مشکل ہو جاتی ہے۔مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔حلقے کی مسجد کی ضروریات کو پورا کرنے میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔جماعتی ضرورت کے لئے اگر کبھی موٹر سائیکل ان سے مانگا جاتا تو پیش کر دیتے اور خود رکشہ پر چلے آتے۔خدمت خلق نہایت مستقل مزاجی سے کرتے تھے۔یہ خاندان بھی، ان کے باقی افراد بھی حسب توفیق مالی قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔