خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 319

خطبات مسرور جلد ہشتم 319 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 امتیاز احمد کی عمر 34 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے ، معاون قائد ضلع، ناظم تربیت نو مبائعین ضلع، سابق ناظم اطفال اور سیکرٹری اشاعت ڈیفنس خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ان کی شہادت بھی مسجد دارالذکر میں ہوئی ہے۔مسجد دارالذکر کے مین گیٹ پر دائیں جانب ان کی ڈیوٹی تھی۔دہشتگردوں نے جب حملہ کیا تو یہ بھاگ کر ان کو پکڑنے کے لئے گئے۔اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے۔سر اور سینے میں گولیاں لگیں جس کے نتیجہ میں سانحہ کے اولین شہداء میں شامل ہو گئے۔بہر حال جماعتی خدمات میں پیش پیش تھے ، شوری کے نمائندے بھی رہے ، بچپن سے ہی اطفال کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔صد سالہ جشن تشکر کے سلسلہ میں اپنے حلقہ میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔سکیورٹی کی ڈیوٹی بڑی عمدگی سے ادا کرتے تھے۔عموما گیٹ کے باہر ڈیوٹی کرتے تھے۔نمازوں کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے۔اپنے دونوں بچوں کو وقف نو کی بابرکت تحریک میں شامل کیا ہوا تھا۔جماعتی عہدیداران کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔لیڈر شپ کی کوالیٹیز (Qualities) تھیں۔وقف کرنے کی بہت خواہش تھی۔اور ڈیوٹی کا کام بھی اپنے آپ کو وقف سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ان کی ڈائری کے پہلے صفحے پر لکھا ہو املا ( بعد میں انہوں نے دیکھا ) کہ بُزدل بار بار مرتے ہیں اور بہادر کو صرف ایک بار موت آتی ہے۔پھر ان کی ایک بہن امریکہ میں رہتی ہیں۔پاکستان کچھ عرصہ پہلے آئی ہوئی تھیں ، انہوں نے کہا کہ میری ڈائری میں کچھ لکھ اک مسیحا کی دعا سے آئی دیں۔تو اس پر شہید نے یہ شعر لکھا کہ یہ ادا عشق و وفا کی ہم میں ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ شہادت سے پہلے ان کو خواب آئے تھے کہ میرے پاس وقت کم ہے اور اپنی زندگی میں مجھے کہتے تھے کہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤ۔اور اس کے لئے بزنس بھی تھوڑا سا ان کے لئے establish کر دیا۔ہمیشہ تہجد پڑھنے والے اور نماز سینٹر میں فجر کی نماز اپنے والد صاحب کے ساتھ پڑھتے تھے۔ایک دن رات کو دارالذکر سے ساڑھے بارہ بجے آئے اور صبح ساڑھے تین بجے پھر اٹھ گئے۔میں نے کہا کہ کبھی آرام بھی کر لیا کریں۔تو کہنے لگے ، اس دنیا کے آرام کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، مجھے آرام کی فکر ہے جو میں نے آگے کرنا ہے۔مکرم اعجاز الحق صاحب اگلا ذکر ہے مکرم اعجاز الحق صاحب شہید ابن مکرم رحمت حق صاحب کا۔شہید مرحوم کا تعلق حضرت الہی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا۔آبائی وطن پٹیالہ ضلع امر تسر تھا، والد صاحب ریلوے میں ملازم تھے اور لاہور میں ہی مقیم تھے۔ہال روڈ پر الیکٹرانکس رپیئر (Repair) کا کام کرتے تھے۔ان دنوں لاہور کے ایک پرائیویٹ چینل میں بطور سیٹلائٹ ٹیکنیشن کام کر رہے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 46 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔وقوعہ کے روز ایم ٹی اے پر جو خلافت کا عہد وفا نشر ہو رہا تھا تو سر پر تولیہ رکھ کر کھڑے ہو کر عہد دو ہر اناشروع کر دیا۔اور اہلیہ نے بھی ان کو دیکھ کر عہد