خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد ہشتم 318 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 ہال میں تھے۔حملے کے دوران سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔سانس بحال کرنے کی کافی کوشش کی گئی لیکن وہیں شہادت ہوئی۔جنرل ریٹائرڈ ناصر شہید، مکرم محمد غالب صاحب شہید، مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب شہید بھی یہ سب حفیظ صاحب کے رشتہ دار تھے۔شہید بہت ہی نرم طبیعت کے مالک تھے۔کبھی کسی کو ڈانٹا نہیں۔گھر میں ملازموں سے بھی حسن سلوک کرتے تھے۔نماز کے پابند۔اکثر پیدل ہی نماز کے لئے جاتے تھے۔ان کے ایک بیٹے ناصر احمد کاہلوں صاحب آسٹریلیا میں ہمارے نائب امیر ہیں۔بڑی اچھی طبیعت کے مالک تھے ، اللہ تعالیٰ درجات بلند کرے۔ان کے بارے میں کسی نے مجھے لکھا کہ غریبوں کے کیس مفت کرتے تھے بلکہ لوگوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔مارشل لاء کے زمانے میں لجنہ کے امتحانی پرچے میں پنجتن پاک کا لفظ لکھنے پر کیس بن گیا۔چو ہدری صاحب نے اس کیس میں احسن رنگ میں پیروی کرا کر اسے ختم کروا دیا۔آپ کی تعزیت کے لئے بہت سے غیر از جماعت دوست بھی آئے۔بلکہ کہتے ہیں بعض متعصب لوگوں نے بھی تعزیت کی۔ان کا کورٹ میں ، دفتر میں جو منشی تھا وہ کہتا ہے ایک سابق حج صاحب کا تعزیت کا فون آیا اور بہت دیر تک افسوس کا اظہار کرتے رہے۔منشی نے جج صاحب سے کہہ دیا کہ آپ ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں۔تو جج صاحب کا جواب تھا ( تعصب کی انتہا آپ دیکھیں) کہ میں افسوس تو کر سکتا ہوں لیکن مغفرت کی دعا نہیں کر سکتا۔جمعہ کی نماز باقاعدگی سے بیت النور ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں ادا کرتے تھے اور باوجو د نظر کی کمزوری کے مغرب کی نماز پر پیدل چل کر آیا کرتے تھے۔اپنے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرتے تھے۔گھنٹوں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔آپ کی چھوٹی پوتی کو جب آپ کی شہادت کے بارے میں بتایا گیا، تو اس کی والدہ نے اسے بتایا کہ اس طرح آپ آسمان پر چلے گئے ہیں، شہید ہو گئے ہیں تو اس پر آپ کے قرآن کریم پڑھنے کا اتنا اثر تھا، ہر وقت دیکھتی تھی کہتی تھی کہ وہاں بھی بیٹھے قرآن شریف پڑھ رہے ہوں گے۔تو یہ ہے وہ اثر جو بچوں پر عملی نمونے دکھا کر ہر احمدی کو قائم کرنا چاہئے۔مکرم چوہدری امتیاز احمد صاحب اگلے شہید جن کا ذکر کرنے لگا ہوں مکرم چوہدری امتیاز احمد صاحب شہید ابن مکرم چوہدری نثار احمد صاحب ہیں۔شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری محمد بوٹا صاحب آف بھینی محرمہ ضلع گورداسپور میں 1935ء میں بیعت کی تھی۔ان کے دادا اکیلے احمدی ہوئے تھے اور سارا گاؤں مخالف تھا۔ان کی دادا کی وفات کے وقت مولویوں نے شور مچایا اور ان کی قبر کشائی کی گئی جس کی وجہ سے ان کی تدفین ان کی زمینوں میں کی گئی۔پارٹیشن کے بعد یہ خاندان ساہیوال کے ایک چک میں آگیا۔اور 1972ء میں ان کے والد صاحب لاہور آگئے۔بوقتِ شہادت شہید