خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 317

خطبات مسرور جلد ہشتم 317 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 احمدی ہے۔کیونکہ اس نے اس معاملے میں بعض غلط قسم کے الفاظ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بارے میں بھی استعمال کئے تھے۔بہر حال یہ معاملہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں پیش ہو ا تو حضور نے دعا کے ساتھ فرمایا ٹھیک ہے، ہمت کرے اور اگر بزدل ہے تو استعفیٰ دے دے۔جب چوہدری صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا یہ پیغام ملا تو انہوں نے کہا جو مرضی ہو جائے میں استعفیٰ نہیں دوں گا اور ایک لمباخط وزیر اعظم صاحب کو لکھا کہ اگر میں استعفیٰ دوں تو ہو سکتا ہے کہ سمجھا جائے کہ میں کچھ چھپانا چاہتا ہوں۔مجھے کچھ چھپانا نہیں ہے اس لئے میں نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور ان کو ایک نوٹ ملا کہ تمہاری خدمات سے تم کو فارغ کیا جاتا ہے۔اور کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔انہوں نے پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں معاملہ پیش کیا، اور دعا کے لئے کہا۔انہوں نے دعا کی۔اگلی صبح کہتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے لئے باہر نکلا تو اس وقت کے امیر جو چو ہدری عبد الحق ورک صاحب تھے ، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لئے دعا کر رہا تھا تو مجھے آواز آئی کہ چھٹیاں مناؤ، عیش کرو۔تو جب بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہوئی اور مارشل لاء والوں نے تمام سرکاری دفاتر کی تلاشی لینی شروع کی تو ان کی فائل بھی سامنے آئی اور ان کے کاغذات مل گئے ، اور جو انکوائری ہوئی پھر بغیر وجہ ملازمت سے بر طرف کیا گیا تھا اس پر فوراً ایکشن ہوا اور ان کو بحال کر دیا اور ساتھ یہ نوٹ بھی اس پہ لکھا ہوا آگیا کہ دو سال کا عرصہ جو آپ کو بر طرف کیا گیا ہے، یہ چھٹی کا عرصہ سمجھا جائے گا۔تو اس طرح وہ خواب جو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے احمدی بھائی کو دکھائی تھی وہ بھی پوری ہوئی۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عجیب کام ہے کہ اگر ایک مخالف احمدیت نے ان کو بر طرف کیا تو بحالی بھی مخالف احمدیت سے ہی کروائی اور ضیاء الحق نے ان کی بحالی کی۔ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ لاہور کی انتظامیہ نے ہمیں کہا کہ حفاظت کے پیش نظر اپنی کار بدل لو تا کہ نمبر پلیٹ تبدیل ہو جائے۔اور دارالذکر آنے جانے کے راستے بدل بدل کر آیا کرو۔تو اپنے والد صاحب کو جب میں نے کہا تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ کر لو، اور ساتھ یہ بھی ہدایت تھی کہ کبھی کبھی جمعہ چھوڑ دیا کرو۔جب یہ بات میں نے والد صاحب سے کی تو انہوں نے کہا کہ جمعہ تو نہیں چھوڑوں گا چاہے جو مرضی ہو جائے ، دشمن زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتا ہے ، ہمیں شہید ہی کر دے گا، اور ہمیں کیا چاہئے۔مکرم چوہدری حفیظ احمد کاہلوں صاحب اگلے شہید ہیں مکرم چوہدری حفیظ احمد کاہلوں صاحب ایڈووکیٹ۔ان کے والد تھے چوہدری نذیر احمد صاحب سیالکوٹی۔ان کا تعلق بھی ضلع سیالکوٹ سے ہے، تعلیم ایل ایل بی تھی۔باقاعدہ وکالت کرتے تھے۔پہلے سیالکوٹ میں پھر لاہور شفٹ ہو گئے۔سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 83 سال تھی اور ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد بیت النور کے مین