خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 310
310 خطبه جمعه فرمودہ مور محمد 18 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم واقف زندگی کا ہے، جو مکرم محمد صادق صاحب ننگلی درویش قادیان کے بیٹے تھے، خود بھی درویش تھے ، (مطلب قادیان میں ہی تھے) 13 جون 2010ء کو 53 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔30 سال تک مختلف جماعتی عہدوں پر احسن رنگ میں خدمت انجام دیتے رہے۔ابتدا میں نائب ناظم وقف جدید تھے۔پھر نائب ناظم بیت المال آمد، نائب ناظر نشر و اشاعت رہے۔1995ء میں ناظر بیت المال خرچ مقرر ہوئے اور تاوفات اسی عہدے پر فائز رہے۔اس کے علاوہ آٹھ سال تک ناظر تعلیم کی حیثیت سے بھی خدمت بجالاتے رہے۔چھ سال تک صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت اور پھر نائب صدر مجلس انصار اللہ انڈیا بھی رہے۔1993ء میں افسر جلسہ سالانہ قادیان مقرر ہوئے اور نہایت عمدگی سے یہ فریضہ سر انجام دیا۔2005ء میں جب میں قادیان گیا ہوں تو اس وقت بھی یہی افسر جلسہ سالانہ تھے۔اور بڑی ہمت اور محنت سے انہوں نے اس سارے نظام کو سنبھالا۔باوجود اس کے کہ بلڈ پریشر وغیرہ کی وجہ سے ان کی طبیعت میں لگتا تھا کہ کچھ آثار بیماری کے نظر آرہے ہیں۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کے دور میں بھی اور ان کے بعد بھی کئی مرتبہ ان کو قائمقام ناظر اعلیٰ خدمت کی توفیق ملی۔اور میاں صاحب کی وفات کے بعد تو میں نے ان کو نائب امیر مقامی بھی مقرر کیا تھا۔صدر انجمن احمدیہ کے علاوہ انجمن تحریک جدید ، انجمن وقف جدید اور مجلس کار پرداز کے بھی ممبر تھے۔صدر فنانس کمیٹی تھے۔اسی طرح نور ہسپتال کی کمیٹی کے صدر تھے۔مختلف خدمات بجالاتے رہے۔انہوں نے اردو میں ایم اے کرنے کے بعد گرونانک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔تہجد اور نمازوں کے بڑے پابند ، خلافت سے والہانہ محبت رکھنے والے مخلص اور باوفا انسان تھے۔اکثر سچی خوا میں آیا کرتی تھیں۔اور انہوں نے اپنی اہلیہ کو بتادیا تھا کہ لگتا ہے میر ا وقت قریب ہے تو اس لئے تیار رہنا۔پہلے ان کے گردوں اور پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو گیا۔پہلے گردے ان کے اور خراب ہوئے۔لمبا عرصہ ڈائیلسز میں رہے۔پھر گردہ تبدیل بھی ہو گیا لیکن حالت سنبھل نہیں سکی۔لیکن بڑے صبر اور حوصلے سے بڑی لمبی بیماری انہوں نے کائی ہے۔آخر میں پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو گیا۔میں نے بھی ان کو ہمیشہ جیسا کہ میں نے کہا ہے ہنستے مسکراتے دیکھا ہے۔1991ء میں میں نے بھی ان کے ساتھ جلسہ سالانہ پر عام کارکن کی حیثیت سے ڈیوٹی دی ہے۔اس وقت بھی میں دیکھتا تھا، بعد میں اپنے وقت میں بھی میں نے دیکھا کہ خلافت کے لئے ان کی آنکھوں سے بھی ایک خاص محبت اور پیار ٹپکتا تھا۔بڑی محنت سے ڈیوٹی دیتے تھے۔اور افسران کے سامنے ہمیشہ مؤدب رہے اور کامل اطاعت کا نمونہ دکھاتے رہے۔بلکہ بعض دفعہ 1991ء میں ڈیوٹی کے دوران مجھے احساس ہوتا تھا کہ افسر بعض دفعہ ان سے زیادتی کر جاتے ہیں لیکن کبھی ان کے ماتھے پر بل نہیں آیا۔مسکراتے ہوئے ، کامل اطاعت کے ساتھ افسر کا حکم مانتے تھے۔اور غلطی نہ بھی ہوئی تو یہ نہیں کہا کہ نہیں میں نے یہ کام نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔5 جون کو لاہور والوں میں سے جو ایک شہید ہوئے ہیں، اُن کا اور ان کا نماز جنازہ غائب جمعہ کے بعد ادا ہو گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 28، 9 جولائی تا 15 جولائی 2010 صفحہ 5 تا11)