خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 311

خطبات مسرور جلد ہشتم 311 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جون 2010ء بمطابق 25 احسان 1389 ہجری شمسی بمقام منہائیم، فرینکفرٹ جرمنی تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ جرمنی کا جلسہ سالانہ میرے اس خطبہ کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اس جلسہ کو بابرکت فرمائے۔یہ جلسہ اپنی تمام تر برکات کے ساتھ ہمارے ایمانوں میں تازگی پیدا کرنے والا اور ایک نئی روح پھونکنے والا ہو۔ان مقاصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں جن کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کا انعقاد فرمایا تھا۔اور وہ مقاصد یہ تھے کہ بیعت کی حقیقت کو سمجھ کر ایمان اور یقین میں ترقی کرنا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام دنیاوی محبتوں پر حاوی کرنا، نیکیوں میں ترقی کرنا اور قدم آگے بڑھانا، علمی، تربیتی اور روحانی تقاریر سن کر علم و معرفت میں ترقی کرنا، آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کا تعلق قائم کرنا اور پھر ان رشتوں کو بڑھاتے چلے جانا۔سال کے دوران ہم سے رخصت ہونے والے بھائی ہیں ، بہنیں ہیں ان کے لئے دعائیں کرنا جو اپنا عہدِ بیعت نبھاتے ہوئے ہم سے جدا ہوئے۔پس ان تین دنوں میں ان مقاصد کو پیش نظر رکھیں تبھی ہم اس جلسے کے انعقاد کی برکات سے فیض پاسکتے ہیں۔اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے آپ اپنے ان تین دنوں میں خاص طور پر اپنی حالتوں کو بدلنے کی کوشش بھی کریں اور دعا بھی کریں۔جہاں اپنے لئے دعا کر رہے ہوں وہاں یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو، دنیا کے کسی بھی کونے میں وہ رہتا ہو ، اپنی حفاظت خاص میں رکھے۔خاص طور پر پاکستانی احمدیوں کے لئے بہت دعائیں کریں۔پاکستان میں آج کل جماعت پر حالات تنگ سے تنگ تر کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مخالفین کو کھلی چھٹی دی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کو بھی ثبات قدم عطا فرمائے۔ان کے ایمان کو مضبوط رکھے ، ان کو ہر شر سے بچائے۔ان کی قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے ان کو خارق عادت طور پر نشان دکھائے۔آج کے خطبہ کے اصل مضمون کی طرف آنے سے پہلے میں جلسہ سالانہ کے بارے میں کچھ انتظامی باتیں بھی کہنا چاہوں گا۔اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جلسہ کے انتظامات کی سر انجام دہی کے لئے آپ سب جانتے ہیں