خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 309
خطبات مسرور جلد هشتم 309 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 مکرم سعید احمد طاہر صاحب ایک شہید ہیں مکرم سعید احمد طاہر صاحب ولد مکرم صوفی منیر احمد صاحب۔ان کا میں آج جنازہ غائب بھی پڑھوں گا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد ضلع کرنال بھارت کے رہنے والے تھے۔ان کے پڑدادا حضرت رمضان صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔ہجرت کے بعد تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں آباد ہوئے۔ان کا خاندان لاہور میں مقیم تھا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 37 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں شہید ہوئے۔سانحہ کے روز کام سے سیدھے جمعہ پڑھنے چلے گئے۔مسجد بیت النور میں ان کے پہنچنے سے پہلے مسجد میں فائرنگ شروع ہو چکی تھی۔دو دہشتگر دجو موٹر سائیکل پر ماڈل ٹاؤن آئے تھے ، اپنی موٹر سائیکل پھینک کر گیٹ پر فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہو گئے تھے۔چند سیکنڈ بعد موٹر سائیکل پھٹ گیا۔یہ اس کے قریب تھے اس کی وجہ سے ان کو آگ لگ گئی اور جسم جھلس گیا۔آٹھ دن یہ ہسپتال میں رہے ہیں لیکن جانبر نہ ہو سکے اور 5 جون کو جامِ شہادت نوش کیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔شہادت سے ایک دن پہلے انہوں نے اپنی بہن کو گاؤں فون کیا کہ گوشت کی دیگ پکوا کر تقسیم کر دو۔انہوں نے خواب دیکھی تھی ، بہر حال اللہ تعالیٰ کی یہی تقدیر تھی، اور پھر جمعہ والے دن بچوں کو پیار کیا اور جلدی جلدی تیار ہو کر کام کے لئے نکل گئے اور اس کے بعد پھر جمعہ پڑھنے مسجد نور چلے گئے۔مرحوم کی بیوہ نے چند ڈائریاں دکھائی ہیں جن میں کئی مقامات پر یہ لکھا تھا کہ شہادت میری آرزو ہے۔انشاء اللہ۔ڈائری میں ایک اور جگہ تحریر ہے کہ اے اللہ ! شہادت نصیب فرما۔یہ گردن تیری راہ میں کئے۔میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے تیری راہ میں ہو دیں۔پیارے حبیب کے صدقے میرے مولی میری یہ دعا قبول فرما۔آمین۔اللہ تعالیٰ نے دعا قبول بھی کر لی۔30 نومبر 2000ء کو انہوں نے ڈائری میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ڈائری میں نمازوں کی ادائیگی، جمعہ کی ادائیگی، خطبہ جمعہ کا مختصر خلاصہ اور نوٹس، چندہ جات کی باقاعدہ ادا ئیگی کا جابجاذ کر ملتا ہے۔اور چونکہ تخت ہزارہ کے رہنے والے تھے ، وہاں کچھ سال پہلے چار پانچ شہید ہوئے تھے ان کے لئے دعا کی تحریک کا بھی ذکر ملتا ہے۔والدین اور رشتے داروں کے حقوق کا بہت خیال رکھتے تھے۔غرباء کو صدقہ دیتے تھے۔بہت ہنس مکھ تھے ، بہت پیار کرنے والے تھے۔ماں باپ، بہن بھائی ، اہلیہ سب کا خیال رکھتے تھے۔انہوں نے ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا جس میں روزانہ کچھ رقم ڈال دیتے تھے۔اور جب گاؤں جاتے تھے تو وہاں مستحقین میں یہ رقم تقسیم کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔تمام شہداء جو ہیں ان کے درجات بلند فرمائے۔یہ تمام شہداء قسم قسم کی خوبیوں کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں اور ان کی نیک خواہشات اپنے بیوی بچوں اور نسلوں کے لئے قبول فرمائے۔سب ( پسماند گان) کو صبر اور حوصلہ سے یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اب یہ ذکر خیر تو ا بھی آئندہ بھی چلے گا۔اس کے علاوہ آج کی جنازہ غائب میں ایک اور جنازہ غائب میں پڑھاؤں گا جو مکرم ڈاکٹر محمد عارف صاحب