خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 279
خطبات مسرور جلد ہشتم 279 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 مکرم عرفان احمد ناصر صاحب عرفان احمد ناصر صاحب شہید ابن مکرم عبد المالک صاحب۔شہید مرحوم کے دادا میاں دین محمد صاحب نے 1934ء میں بیعت کی تھی۔بد و ملی ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔ان کی پڑنانی محترمہ حسین بی بی صاحبہ حضرت مصلح موعودؓ کی بیٹی صاحبزادی امۃ القیوم کی رضاعی والدہ تھیں۔شہید مرحوم کے والد مکرم عبد المالک صاحب کو نمائندہ الفضل، نمائندہ تفخیذ و خالد برائے لاہور اور سیکرٹری تعلیم القرآن اور سیکرٹری وصایا ضلع لاہور کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی۔بوقت شہادت شہید کی عمر 31 سال تھی اور مجلس خدام الاحمدیہ میں بطور منتظم اشاعت خدمات سر انجام دے رہے تھے۔موصوف نے دارالذکر میں شہادت پائی۔ان کے بھائی بتاتے ہیں کہ ان کی ڈیوٹی عموماً ٹریفک کنٹرول پر ہوتی تھی۔اس حوالے سے غالباً امکان یہی ہے کہ یہ سب سے پہلے شہید یا پہلے چند شہیدوں میں سے ہوں گے۔نظام وصیت میں شامل تھے۔اطاعت کا مادہ بہت زیادہ تھا۔کبھی کسی کام سے انکار نہیں کیا۔نہایت خدمت گزار تھے۔علاقے میں سماجی کارکن کے نام سے مشہور تھے۔مکرم سجاد اظہر بھر وانہ صاحب مکرم سجاد اظہر بھر وانہ صاحب شہید ابن مکرم مہر اللہ یار بھروانہ صاحب۔یہ محمد اسلم بھروانہ صاحب شہید کے بھانجے تھے اور یہ بھی ضلع جھنگ کے رہنے والے تھے اور ریلوے میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر کلرک کی پوسٹ پر ملازمت کر رہے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔خدام الاحمدیہ کے بہت ہی فعال اور ذمہ دار رکن تھے۔ان کو متعد د تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق ملتی رہی۔شہید مرحوم نے دارالذکر میں شہادت پائی اور نظام وصیت میں شامل تھے۔ہمیشہ خدمت دین کا موقع تلاش کرتے رہے اور ہر آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔بہت مخلص احمدی تھے۔آخری وقت تک فون پر معتمد صاحب ضلع شہباز احمد کو وقوعہ کے بارے میں اطلاع دیتے رہے اور اطلاع دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ایک خادم شعیب نعیم صاحب نے بتایا کہ سجاد صاحب آئے اور مجھے کہتے ہیں کہ مجھے آج یہاں ڈیوٹی دینے دیں۔میرا یہ دارالذکر میں آخری جمعہ ہے اس کے بعد میں نے گاؤں چلے جانا ہے۔چنانچہ میری جگہ انہوں نے ڈیوٹی دی اور اس ڈیوٹی کے دوران شہید ہو گئے۔گاؤں تو نہیں گئے لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ لے گیا جہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہے۔بہت خدمت گزار تھے۔اپنی ملازمت کے فوراًبعد جماعتی دفتر میں تشریف لے آتے تھے اور رات گیارہ بارہ بجے تک وہیں کام کرتے تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ سجاد زخمی حالت میں گھر آئے ہیں اور کہا ہے کہ میرے پیٹ میں شدید تکلیف ہے۔میں نے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو خون بہہ رہا تھا۔اور شہید مرحوم کے پیٹ میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔