خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 280

خطبات مسرور جلد ہشتم 280 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 مکرم مسعود احمد اختر باجوہ صاحب مسعود احمد اختر باجوہ صاحب شہید ابن مکرم محمد حیات باجوہ صاحب۔شہید مرحوم کے والد صاحب R-191/7 ضلع بہاولنگر کے رہنے والے تھے۔پیچھے سے یہ سیالکوٹ کے تھے۔ان کے والد صاحب اپنے خاندان میں احمدیت کا باشمر پودا لگانے والے تھے۔ان کی وجہ سے ان کے خاندان میں احمدیت آئی۔انہوں نے حضرت مولوی عبد اللہ باجوہ صاحب آف کھیوہ باجوہ کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔آپ کے ایک بھائی چک میں صدر جماعت ہیں۔آپ نے بہاولنگر سے تعلیم حاصل کی، پھر ربوہ سے پڑھے واپڈا کے ریٹائرڈ افسر تھے۔1975ء سے لے کر 2000ء تک ملازمت کے سلسلہ میں کو ئٹہ رہے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔2001ء میں لاہور شفٹ ہوئے۔مجلس انصار اللہ کے محنتی اور فعال ممبر تھے۔زعیم انصار اللہ اور امیر حلقہ دارالذکر تھے۔معاون سیکر ٹری اصلاح و ارشاد واشاعت ضلع اور سیکرٹری تعلیم القرآن حلقہ دارالذکر بھی تھے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 72 سال تھی۔آپ نے دارالذکر میں شہادت پائی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان کے بیٹے ڈاکٹر حامد صاحب امریکہ میں ہوتے ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے گرین کارڈ کے لئے اپلائی کرنا تھا مگر بوجوہ نہیں کر سکا۔تو میرے والد نے مجھے ایک ہزار ڈالر بھجوائے اور کہا کہ فورا گرین کارڈ کے لئے اپلائی کرو جلدی میں پاکستان آنا پڑ سکتا ہے۔چنانچہ میں نے اپلائی کر دیا اور پچیس دنوں میں ہی گرین کارڈ مل گیا۔عموماً کہتے ہیں کہ چھ ماہ لگتے ہیں۔اور اس طرح وہ والد کی شہادت پر پاکستان پہنچ بھی گئے۔ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ شہادت سے پہلے جو زخم آنے سے خون بہہ رہا تھا تو ایک پڑوسی میاں محمود احمد صاحب کو کہا کہ میں گیا۔میرے بچوں کا خیال رکھنا۔انہوں نے کپڑا پھاڑ کر ان کے زخم کو باندھا۔لوگوں کو آخر وقت تک سنبھالتے رہے۔ایک نوجوان بچے کو سارے عرصے میں پکڑ کر اس کی حفاظت کی خاطر اپنے پیچھے رکھا کہ اس کو نہ گولی لگ جائے۔سب کا خیال کرتے رہے اور دعا کی تلقین کرتے رہے۔خود بھی درود شریف پڑھتے رہے اور اپنے پڑوسی میاں محمود صاحب کو بھی تلقین کرتے رہے۔تعلیم شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ ہر بندے سے بے غرض تعلق تھا۔جمعہ سے پہلے پڑوسیوں کو جمعہ کے لئے نکالتے اور ہر کسی سے گرمجوشی کے ساتھ ملتے اور طبیعت مزاحیہ بھی تھی ہر ایک کی دلجوئی فرماتے۔مسعود صاحب کی آخری خواہش تھی کہ میرا بیٹا مربی بن جائے جو کہ جامعہ احمد یہ ربوہ میں اس سال درجہ خامسہ میں حاصل کر رہا ہے۔قناعت پسند تھے ، چھوٹا ساگھر تھا لیکن بڑے خوش تھے۔میرے خطبات جو ہیں بڑے غور سے سنتے تھے اور سنواتے تھے۔اسی طرح مرکزی نمائندگان اور بزرگانِ سلسلہ کے بارے میں ان کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے گھر آئیں اور ان کو خدمت کا موقع ملے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی تمام دعائیں اور نیک خواہشات جو اپنے بچوں کے لئے اور واقف زندگی بچے کے لئے تھیں، ان کو بھی پورا فرمائے۔اور اس واقف زندگی بچے کو وقف کا حق نبھانے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔