خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 278
خطبات مسرور جلد ہشتم 278 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 بوقتِ شہادت شہید کی عمر 58 سال تھی۔مجلس انصار اللہ کے ممبر تھے اور دارالذکر میں ہی شہید ہوئے۔موصوف کی شہادت گرینیڈ کے شیل لگنے سے ہوئی تھی۔ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اپنے بیٹے کو فون کیا اور کہا کہ میں زخمی ہوں میرے لئے دعا کرنا اور اہلیہ کے ساتھ بات کی کہ میں معمولی سا زخمی ہوں میرے لئے دعا کریں۔بڑا بیٹا فرحان بھی مسجد میں ساتھ موجود تھا جو ان کو تلاش کر تا رہا لیکن اندازہ ہے کہ جب یہ افواہ مشہور ہوئی کہ دہشتگرد چلے گئے ہیں اور جو کارروائی وہ کر رہے ہیں ختم ہو گئی ہے تو باہر نکلتے ہوئے ان کو گولی لگی جو غلط اعلان تھا۔بڑے عبادت گزار تھے پانچ وقت کے نمازی، بہت ہمت والے انسان تھے۔ہر سال اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔اصول پسند اور وقت کی پابندی کرنے والے تھے۔ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے ہمارا گھر گھڑی کی سوئی پر چلتا تھا۔بزرگوں کا احترام کرنے والے تھے، بچوں سے بہت پیار تھا۔اپنے داماد سے اکثر ذکر کرتے کہ عبادت میں جو پانا چاہ رہا ہوں وہ ابھی تک نہیں ملا، شاید کچھ کمی ہے۔شہید مرحوم نے کچھ عرصہ قبل خود خواب میں دیکھا کہ میں کسی پل پر چل رہا ہوں اور سات آٹھ قدم چلنے کے بعد پل ختم ہو گیا ہے۔خود ہی اس کی تعبیر کی کہ زندگی تھوڑی رہ گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند مقام دیا۔شہید مرحوم کے بچے بتاتے ہیں کہ جب بھی کسی کی شہادت ہوتی تو کہا کرتے تھے کہ کبھی ایسا موقع آئے کہ ہم بھی شہید ہوں۔اپنے ماموں کی شہادت پر کہا کہ کاش ان کو لگنے والی گولی مجھے لگی ہوتی۔موصوف نے شادی سے پہلے خود خواب میں دیکھا کہ گھر میں صحن میں کھڑا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بالائی منزل سے مجھے دیکھ رہے ہیں اور میں حضور علیہ السلام کو دیکھ کر کہتا ہوں یہ تو حضور ہیں۔خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت بھی کی۔شہادت سے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ سفید چاول کھا رہا ہوں۔اکثر معبر تین جو ہیں وہ اس کی یہ بھی تعبیر کرتے ہیں کہ کسی کی خواہش کا پورا ہونا اور بلند درجہ ہونا اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم منور احمد خان صاحب منور احمد خان صاحب شہید ابن مکرم محمد ایوب خان صاحب۔یہ ڈیریاں والا ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔عرفان اللہ خان صاحب امیر ضلع نارووال کے کزن تھے اور قالینوں کا ان کا کاروبار تھا شہادت کے وقت ان کی عمر 61 سال تھی۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اپنے چندہ جات باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ان کی تدفین لاہور میں ہانڈو گجر قبرستان میں ہوئی ہے۔بچوں کو خاص طور پر تربیتی کلاسز میں حصہ لینے کی تاکید کرتے۔نیک انسان تھے، اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق تھا۔اہلیہ بتاتی ہیں کہ اس سے قبل جب حالات خراب ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرے بچوں کو احمدیت اور خلافت سے منسلک رکھنا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی دعائیں اور خواہشات اپنی اولاد کے حق میں پوری فرمائے۔