خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 250

خطبات مسرور جلد ہشتم 250 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 ہر کتاب کو پڑھ کے جس طرح غیر از جماعت علماء کی اور پڑھے لکھوں کی بھی عادت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں اعتراض تلاش کرنا اور آج کل پاکستان میں یہ اعتراض کی صورت بڑی انتہاء پر گئی ہوئی ہے کتابیں نکال نکال کر اس پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ اعتراض کرنے والا جس طرح کے بودے اعتراض کر رہا ہوتا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی کم علمی ہے اور فطرت صحیحہ کی بجائے وہ شیطان کے پیچھے چلنے والے لوگ ہیں۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ میں بھی اعتراض تلاش کرتا تھا۔اور اعتراض نکالنے کے بعد جب میں علماء سے تسلی کروانے جاتا تھا تو وہاں میری تسلی نہیں ہوتی تھی۔پھر کہتے ہیں میں نے اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی تو اس نے میرے دل میں ایک ہلچل مچادی۔میں نے اپنے والد صاحب کو بھی سنائی تو میں نے کہا یہ کیسا ہے ؟ لکھنے والا کون شخص ہو سکتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کتاب کا لکھنے والا یقینا کوئی ولی اللہ ہے۔اس پر میں نے کہا اگر یہ مسیح موعود کا دعویٰ کر رہا ہو تو پھر ؟ تو سوچ میں پڑ گئے اور کہا کہ ٹھیک ہے۔بہر حال میں اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ ایسی اعلیٰ پائے کی چیز اللہ تعالیٰ کا کوئی انتہائی مقرب ہی لکھ سکتا ہے۔لیکن میں تو اب بوڑھا ہو رہا ہوں اس لئے مذہب کے معاملے میں پکا ہو چکا ہوں تو میں تو قبول نہیں کر سکتا۔لیکن بہر حال حلمی شافعی صاحب کے دل میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔وہ سعید فطرت تھی جس نے اعتراضوں کی تلاش کے باوجود ان کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے بیعت کر لی۔(ماخوذ از الفضل انٹر نیشنل مورخہ 28 مئی 2010ء صفحہ 3-4) تو اس طرح کے واقعات بے شمار ہیں۔آج کل بھی ہوتے ہیں۔کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوابوں کے ذریعہ سے دکھاتا ہے۔اب خوابوں کے ذریعے سے جو پیغام پہنچتا ہے اس میں تو کسی انسان کا ہاتھ نہیں ہوتا۔تو یہ سب اس کی تائید میں ان فرشتوں کی ایک ہلچل ہے جو سارے نظام میں بچی ہوئی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فرستادے کے لئے ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔اور پھر اس طرح سے جو سعید فطرت ہیں وہ حق کی طرف آتے چلے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف شیطان کے قدموں پر چلنے والے مخالفت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وہ روکیں ڈالتے ہیں اور ان کے پیچھے ان کا وہ تکبر کام کر رہا ہوتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے نشاندہی فرمائی تھی جو انہیں ملائکہ کے زمرہ سے نکال کر بغاوت پر آمادہ کرتے ہیں اور شیطان کے پیچھے چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے بندے تو خدائی صفات کا پر تو بنتے ہیں اور ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھتا چلا جاتا ہے۔روحانی ترقی میں بھی ان کے قدم بڑھتے ہیں۔اور اس طرح دنیاوی اور مادی معاملات میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی جو تفسیر ایک جگہ فرمائی ہے یہ میں ابھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔تکبر ایسی بلا ہے کہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔یاد رکھو! تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے