خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 249
خطبات مسرور جلد ہشتم 249 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 ایک الہام کا ذکر فرمایا کہ اردتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ خَلِيْفَةَ الله السُّلْطَانَ۔کہ میں نے چاہا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو آدم کو پیدا کیا جو اللہ کا خلیفہ اور سلطان ہے“۔آپ فرماتے ہیں۔”ہماری خلافت روحانی ہے۔اور آسمانی ہے ، نہ زمینی“۔(ماخوذ از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه 111 اشتہار مورخہ 7 جون 1897) پس یہ آدم کا مقام خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی علیہ ظلم کی غلامی کی وجہ سے آپ کو عطا فرمایا۔اور جب یہ مقام دیا تو جیسا کہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے، فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔اس خاص بشر کو سجدہ کرو جس کو میں نے اپنے دین کو پھیلانے کے لئے چن لیا ہے۔تو غیر معمولی تائیدات کا ایک سلسلہ بھی آپ کے ساتھ شروع ہو گیا۔وہ ایک آدمی کروڑوں میں بن گیا۔آپ کو الہاما یہ تسلی دی گئی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میرے فرشتے بھی تیری مدد کے لئے ہمہ وقت مستعد ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا۔” فَانّي مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَيَنْصُرُهُ الْمَلَئِكَةُ پس میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور ملائکہ بھی اس کی مدد کریں گے۔(تذکرہ صفحہ 309 ایڈیشن چہارم) اور یہ خدا تعالی کی مدد کوئی پرانے قصے نہیں ہیں بلکہ اپنے وعدے کے مطابق آج تک خدا تعالیٰ کی مدد کے نظارے ہم دیکھتے ہیں۔شیطان بھی اپنا کام کئے چلا جارہا ہے اور فرشتے بھی۔جب اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعے سینے کھولتا ہے تو اس کی تمام رو کیں دور ہو جاتی ہیں۔ایک جگہ ظلم کر کے جماعت کو دبایا جاتا ہے تو دوسری جگہ نئی نئی جماعتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔گزشتہ دنوں میں عربوں کے متعلق الفضل میں ندیم صاحب جو ایک صفحہ لکھتے ہیں اس میں ایک واقعہ دیکھ رہا تھا اس میں حلمی شافعی صاحب کی قبولیت احمدیت کا واقعہ تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو احمدیت کی طرف مائل کیا ؟ مصطفی ثابت صاحب جو پہلے احمدی تھے۔وہ اور علمی شافعی صاحب صنعاء کے صحراء میں جس کمپنی میں وہ کام کرتے تھے ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔تو کہتے ہیں میں دیکھتا تھا ایک نوجوان ہے جو دوسروں سے الگ تھلگ رہتا ہے۔نمازیں بھی باقاعدہ پڑھتا ہے۔پہلے مجھے خیال ہوا کہ یہ بہائی ہے یا کوئی اور ہے۔پھر دیکھا جو با قاعدہ نمازیں پڑھتا ہے تو خیال ہوا بہائی تو نہیں ہو سکتا۔پھر اور بعض فرقوں کی طرف دھیان گیا۔پھر میں نے آہستہ آہستہ اس ے تعلق پیدا کر ناشروع کیا تو دیکھا کہ وہ نوجوان یعنی مصطفی ثابت صاحب اسلام کے جو نظریات پیش کرتا تھا اور جو دلیلیں دیتا تھا وہ ایسی ہوتی تھیں کہ میرے پاس جواب ہی نہیں ہو تا تھا۔علماء سے بھی میں جواب مانگتا لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی۔ایک موقع ایسا آیا کہ مجھے وہاں سے کام چھوڑ کے آنا پڑا اور انہوں نے اپنی کتابوں کا بکس میرے سپر د کر دیا کہ یہ لے جاؤ۔تو میں نے کہا کہ اس شرط پہ لے جاؤں گا کہ یہ کتابیں میں پڑھوں۔اس میں میں نے قرآن کریم کی تفسیر جو فائیو والیم میں ہے وہ اور بعض اور کتب پڑھیں، اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی۔تو کہتے ہیں کہ