خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 248

248 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم طرف قدم بڑھانے کی توفیق نہیں دیتا۔اور ہمیشہ ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اس نبوت کے دعویدار اور خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے کو ماننے والے تو غریب لوگ ہیں اور ہم بڑے لوگ ہیں۔ہم صاحب علم ہیں۔ہمیں دین کا علم زیادہ پتہ ہے اس لئے ہم کس طرح اس جماعت میں شامل ہو جائیں یا اس کی بیعت کر لیں۔آج اس زمانے میں بھی جو زمانے کے امام کو نہیں مانتے تو یہ تکبر ہی ہے جو ان کو نہ ماننے پر مجبور کر رہا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا کہ جو بشر میں نے بنایا ہے اس کو سجدہ کرو تو یہ کوئی ظاہری سجدہ نہیں تھا۔ظاہری سجدہ تو صرف خدا تعالیٰ کو کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں دین پھیلانے کے لئے میں نے جس شخص کو مبعوث کیا ہے اس کے لئے کامل فرمانبرداری کرتے ہوئے اس کے مشن کو آگے بڑھانے میں اس کی مدد کرو اور شیطانوں کے منصوبوں کو کبھی کامیاب نہ ہونے دو۔ان مقاصد کو کبھی شیطان حاصل نہ کر سکے۔اور شیطان کے تمام منصوبوں کو ناکام و نامراد کرنے میں نبی کی تائید کرو۔اس کا ہاتھ بٹاؤ اور نیک فطرت اور سعید لوگوں کے دلوں میں نبی کے پیغام اور اللہ تعالیٰ کی اس کے ساتھ تائیدات کے سلوک کی پہچان بھی پیدا کرو تا کہ وہ حق کو پہچانے اور حق کو پہچان کر اس کی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔پھر ایسے لوگ اپنے اندر بھی نفخ روح کے نظارے دیکھیں گے۔خدا تعالیٰ کے سلوک کے نظارے دیکھیں گے۔اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کا باعث بنتے ہوئے جنتوں کا وارث ٹھہریں گے۔نبی کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے میں، فرشتے انسانوں کو بھی جو حکم دیتے ہیں کہ نبی کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لئے اس کے مدد گار بن جاؤ تو سعید فطرت لوگوں میں یہ تحریک پید اہوتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جب تمام فرشتے بھی نبی کی تائید میں فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُتُهُمُ اَجْمَعُونَ کا اعلان کرتے ہیں۔یعنی اس چیز کا نظارہ پیش کرتے ہیں کہ سب فرشتوں نے سجدہ کیا۔اور خارق عادت اور غیر معمولی برکات نبی کے کام میں پڑ رہی ہوتی ہیں۔اور فرشتہ صفت انسانوں کے ذریعے بھی اس سجدہ کے نظارے نظر آتے ہیں جو فرمانبر داری کا سجدہ ہے۔جو اطاعت کا سجدہ ہے۔جو اپنی تمام تر طاقتیں اور صلاحیتیں نبی کے کام کو آگے بڑھانے کا سجدہ ہے۔اور وہ نبی کے سلطان نصیر بن کر اس کے کام کو آگے بڑھانے والے ہوتے ہیں۔خدا کے فرستادوں کی توہین اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیہ کمر کے عاشق صادق کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کہہ کر مخاطب کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو خدا کے فرستادہ کی توہین خدا کی تو ہین ہے۔تمہارا اختیار ہے چاہو تو مجھے گالیاں دو کیونکہ آسمانی سلطنت تمہارے نزدیک حقیر ہے۔پس آج بھی جو مقابلہ کر رہے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے مقابلہ کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود یا آپ کی جماعت سے مقابلہ نہیں ہے۔پھر ایک تفصیل بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ”حقیقی خلافت میری ہے یعنی میں خلیفتہ اللہ ہوں اور پھر اپنے