خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 247
خطبات مسرور جلد ہشتم 247 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 اس کی پیدائش کے اعلان کے ساتھ کیا اور فرشتوں کو اس کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا۔تو شیطان نے بڑی رعونت اور تکبر سے کام لیتے ہوئے کہا، میں اس انسان کو سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ؟ جبکہ میں تو اپنے اندر ناری صفات رکھتا ہوں، آگے آیات میں اس کا ذکر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جب بشر پیدا کیا اور اس میں وہ صلاحیتیں رکھیں جن سے وہ خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو کر قرب خداوندی کے انتہائی مقام تک پہنچ سکتا ہے تو فرشتے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی خدمت پر مامور ہوئے۔پس جب اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوتے ہیں اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے الہام ، وحی اور روح القدس سے حصہ پانے والے ہوتے ہیں تو تمام فرشتوں کا نظام ان کی تائید میں کھڑا ہو جاتا ہے، یا اس نبی کی تائید میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اور وہ نتائج اس کے کام میں پیدا ہوتے ہیں جو اس کے مقصد کو جس مقصد کے لئے وہ آیا ہوتا ہے ترقی کی طرف لے جاتے چلے جاتے ہیں۔ایک تقدیر خاص اللہ تعالیٰ کی جاری ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض جگہ بشر کہہ کر اور بعض جگہ آدم کے الفاظ استعمال کر کے اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔تو تمام عالم اور دوسری مخلوق جو ہے اس کی خدمت پر لگا دی۔جب ایک بشر اللہ تعالیٰ کے مقام قرب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور نبوت کے مقام پر پہنچ کر اپنے وقت کا آدم بن جاتا ہے تو اس کے ساتھ کس قدر خدا تعالیٰ کی تائیدات ہوتی ہیں اس کا تصور بھی انسانی سوچ سے باہر ہے۔ہم دیکھتے ہیں جب آنحضرت صلی یم اور مومنین پر ظلم کی انتہا ہوئی اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے مدینہ پر کفار نے حملہ کرنے کی نیت سے فوج کشی کی اور پھر بدر کے میدان میں جنگ کا میدان جما تو کس طرح فرشتوں کے ذریعے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں جنگ کا پانسا پلٹا۔جماعتی سطح پر بھی ہر موقع پر یہ نظارے نظر آتے ہیں۔قومی سطح پر بھی نظارے نظر آتے ہیں۔انفرادی طور پر بھی انبیاء کے ساتھ یہ سلوک دیکھتے ہیں۔پھر جنگ حنین میں بھی یہ نظارہ دیکھا تو ہر موقع پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے آپ کی، مومنین کی تائید فرما تارہا۔اور اسلام کی تائید میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت علی ایم کے ساتھ اور مسلمانوں کی ابتدائی حالت میں ہمیشہ فرشتوں کی ایک فوج ساتھ تھی۔بے شک مسلمانوں کے جانی نقصان بھی ہوئے ہیں۔مالی نقصان بھی ہوئے ہیں لیکن ابلیس کا گروہ جو ہے وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ابلیس اور شیطان کے چیلے اپنا زور لگاتے رہتے ہیں کہ کسی طرح سے، کسی بھی رنگ میں وسوسے پیدا کر کے اللہ کے بندوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے رہیں۔انہیں قتل و غارت کے ذریعے سے خوف دلاتے رہیں۔مالی نقصان کے ذریعے سے خوف دلاتے رہیں۔چھپ کے حملوں کے ذریعے سے بھی خوف دلائیں۔ظاہری حملوں کے ذریعے سے بھی خوف دلائیں۔مخالفین کا انبیاء کو نہ ماننا اور شیطان کے قبضہ میں جانا ان کے تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے جو ان کو نیکیوں کی