خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 240
خطبات مسرور جلد ہشتم 240 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 بھی نہیں اور یک طرفہ فیصلہ کرتے چلے جارہے ہیں۔خدا کا خوف کرنا چاہئے اور خدا کے غضب سے ڈرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اسلام کے لئے خدمات کا مشاہدہ تو کریں۔آنحضرت علی الم کے لئے احمدیوں کی غیرت اور حمیت کو تو پر کھیں۔ورنہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہم ملزم نہیں، آپ لوگ مجرم ہوں گے۔وہ لوگ مجرم ہوں گے جو بغیر دیکھے ایک فیصلہ ٹھونستے چلے جارہے ہیں۔ان علماء کی حالت کا نقشہ تو ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جن الفاظ میں کھینچا ہے ، وہ میں پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے لے کر آج تک ان نام نہاد علماء کی فطرت اور ان کی حرکتوں میں کوئی فرق نہیں پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” اور وہ لوگ جو کہتے ہیں جو ہم علمائے اسلام ہیں اور نبی کے دین کے ایک نر عالم ہیں، سو ہم ان کو ایک ست الوجود اور چارپایوں کی طرح کھانے پینے والے دیکھتے ہیں۔وہ اپنی باتوں اور قلموں سے کچھ بھی حق کی مدد نہیں کرتے، بجز اللہ قبل شانہ کے اُن خاص بندوں کے جو تھوڑے ہیں۔اور اکثر کو تو ایسا پائے گا کہ اہل حق کا کینہ رکھتے ہوں گے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی حق کی بات سن کر ان میں شور و غوغا پیدا نہ ہو۔وہ نہیں جانتے کہ حق اور صواب کیا چیز ہے؟ وہ فتنہ سے باز نہیں آتے اور حق کے ساتھ باطل باتوں کو ملاتے ہیں تا اپنی نکتہ چینی سے جاہلوں کو دھو کہ میں ڈالیں“۔ایک جھوٹ اور بہتان اور ان میں سے جو ہم نے ذکر کیا ایک یہی ہے کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آنحضرت صلیم کے بعد نبی مان کر نعوذ باللہ خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔یہ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔اور اسی نے کم علم اور معصوم لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کا یا ہوا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”اور وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے اس کو ایک خنّاس سمجھتے ہیں اور مومنوں کو کافر ٹھہراتے ہیں۔ان کے قدم بجز درونگوئی کے کسی طرف حرکت نہیں کرتے اور ان کی زبانیں بجز کافر بنانے کے کسی طرف جھکتی نہیں اور نہیں جانتے کہ دین کی خدمت کیا شے ہے۔انہوں نے حق کو باطل کے ساتھ ملایا اور دیدہ و دانستہ ہم پر افتراء کیا۔پس یہ نبی صلی للی نام کے دین پر ایک بڑی مصیبت ہے کہ اس زمانہ کے اکثر علماء دیانت اور امانت سے باہر نکل گئے ہیں۔اور دینی دشمنوں کی مانند کام کر رہے ہیں اور جھوٹ پر گرے جاتے ہیں تا اس کو حق کے حملہ سے بچالیں“۔( جھوٹ کو حق سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں)۔فرمایا: اور خداوند ذوالجلال کی کچھ بھی پر واہ نہیں کرتے اور عناد رکھنے والوں کی طرح کافروں کو مدد دے رہے ہیں۔اور اپنے دلوں میں یہ بات بٹھالی ہے کہ وہی حق پر ہیں حالانکہ سراسر ہلاکت کی راہ پر چلتے ہیں۔وہ صرف اپنی نفسانی