خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 239

خطبات مسرور جلد ہشتم 239 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 اور اللہ تعالیٰ شہیدوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران: 170) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو ہر گز مردہ گمان نہ کرنا بلکہ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں ان کے رب کے ہاں رزق عطا کیا جارہا ہے۔مسیح موعود کی تکذیب ان کا ذریعہ رزق پس شہیدوں کے لئے تو اخروی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ہمیشہ کی زندگی ان کا مقدر بن گئی ہے۔لیکن مخالفین کے بارے میں فرماتا ہے کہ وَ تَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ (اواقعة:83) کہ اپنا حصہ رزق تم نے صرف جھٹلانا بنا لیا ہے۔تم مولویوں کی روٹی بھی اسی لئے ہے اور سیاستدانوں کی بھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی جائے آپ کو جھٹلایا جائے۔گویا یہ ان کا ذریعہ رزق بن گیا ہے۔ان کا جھٹلانا جو ہے ان کے رزق کا ذریعہ بن گیا ہے اور حقیقی رازق کو وہ بھول چکے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔پس جھٹلانے اور قتل کرنے کی سزا کا اعلان خود خدا تعالیٰ نے سورۃ نساء کی جو پہلی آیت میں نے پڑھی ہے اس میں بیان کر دیا ہے۔پس یہ خوف کا مقام ہے ، ان کو کچھ ہوش کرنی چاہیئے۔جماعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا میں مخالفت بھی پھیل رہی ہے۔اور یہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے اس قول کے عین مطابق ہے کہ ہر نبی کی مخالفت ہوئی ہے اور ہوتی ہے۔پس مسیح موعود کی بھی ہوئی تھی اور آپ کے ماننے والوں کی بھی مخالفت ہر اس جگہ ہوئی تھی جہاں احمدیت ہے اور مختلف طریقوں سے یہ ہو رہی ہے۔کہیں زیادہ، کہیں کم۔مصر میں احمدیت کی مخالفت آج کل جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں مصر میں بھی جماعت کی مخالفت بہت زیادہ ہے۔اور اس مخالفت کی وجہ سے حکومت کے بعض ادارے بھی مولویوں کے پیچھے لگ کر اس میں شامل ہو گئے ہیں اور احمدیوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے ، اور ان پر الزامات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نعوذ باللہ احمد کی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ہمارے نزدیک آنحضرت صلی للی کم کا مقام سب سے افضل ہے اور آپ کے بعد نہ کوئی شرعی نبی آسکتا ہے اور نہ قرآنِ کریم کے بعد کوئی اور شرعی کتاب اتر سکتی ہے۔پس حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کا جو دعویٰ ہے وہ خالصتا آپ کی غلامی میں اور آپ سے فیض پاتے ہوئے دعوی ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس لئے مبعوث کیا کہ میں اس زمانے میں سب سے زیادہ آنحضرت صلی علیہ وسلم کا عاشق صادق ہوں۔پس ان پڑھے ہوئے لوگوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ آنکھیں بند کر کے کم علموں کی طرح سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے احمدیت کا پیغام تو پڑھیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی تو دیکھیں پھر اگر الزام ثابت ہو تا ہو تو دکھائیں۔پہلے ہمارا موقف تو سنیں۔احمدیت کا موقف تو سنتے نہیں اور سننے کو تیار