خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 233

خطبات مسرور جلد ہشتم 233 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 ہی ایک موقع پر جب ان کو جسمانی اذیتیں دی جا رہی تھیں تو آنحضرت صلی علیکم کا وہاں سے گزر ہوا تو آنحضرت صلی ال کلیم نے ان کی طرف دیکھا اور بڑے درد مند لہجے میں فرمایا کہ صَبْرًا آلَ يَاسِرَ فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّة کہ اے ال یاسر ! صبر کرتے رہو ، یقیناً تمہارے اس صبر کی وجہ سے تمہارے لئے جنت تیار کی گئی ہے۔یاسر تو اس وقت اس اذیت کے دوران چند لمحوں میں ہی شہید ہو گئے اور بوڑھی سمیہ جن میں کچھ جان تھی ان کو ابو جہل نے ایک ایسا نیز ہمارا جو ان کے پیٹ کے نچلے حصے میں لگا اور وہیں تڑپتے ہوئے انہوں نے جان دے دی۔(السیرۃ النبویۃ از احمد بن زینی دحلان، جزء اول ص 202، 201 اور الرحیق المختوم از صفی الرحمن المبار کفوری صفحه 107 مطبوعہ سعودی عرب ایڈیشن 2000ء) تو یہ ظلم تھے جو آنحضرت صلی ال نیم کے ماننے والوں کے لئے روار کھے گئے تا کہ کوئی آپ کے قریب نہ آئے۔لیکن ان ظلموں سے سعید روحوں کو اور توجہ پیدا ہوئی۔ان ایمان سے بھرے ہوئے دلوں کو دیکھ کر لوگوں کی آنحضرت صلی اللہ علم کی طرف مزید توجہ پیدا ہوئی۔اسلام کا پیغام مکہ سے نکل کر مدینہ تک پہنچا اور وہاں اسلام پھیلنا شروع ہوا۔حبشہ میں اسلام کا پیغام پہنچا۔پس جب مکہ کے سرداروں اور ان کے چیلوں نے ظلم و بربریت کی انتہا کر دی تو اسلام کے پیغام کو دبانے کی بجائے یہ ظلم و بربریت اس پیغام کے پھیلانے کا باعث بن گئی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس مخالفت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ یہی مخالفت بہت سوں کی ہدایت کا باعث بن جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نصیر بھی ہے ، ہادی بھی ہے۔ہدایت دیتا ہے۔نصیر بھی ہے ، مدد کرتا ہے۔وہ یقینا تمہاری مدد کرے گا اور تمام تر مخالفتوں کے باوجو د غلبہ اس کا ہو گا جسے خدا تعالیٰ نے مامور فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی مدد کے لئے جب چاہتا ہے زمینی اور آسمانی نشان دکھاتا ہے۔ایسے مجرموں کی ہلاکت کے لئے اپنی گہری تجلیاں بھی دکھاتا ہے، اور کبھی کوئی طاقتور بادشاہ، کوئی فرعون، کوئی سربراہ، انبیاء کے کاموں کو روک نہیں سکا۔بلکہ مخالفتیں ترقی کے راستے دکھاتی ہیں۔مخالفت کھاد کا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ جس طرح روڑی اور کھاد جو گند بلا ہوتا ہے۔یہ فصلوں کی نشو و نما کے لئے کام آتا ہے۔اسی طرح یہ گندی مخالفتیں بھی الہی جماعتوں کے لئے کھاد کا کام دیتی ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 631) یہ مخالفت بھی بہت سوں کی ہدایت کا باعث بن جاتی ہے۔پس یہ ہمیشہ مجرموں کا طریق ہے کہ اللہ کے پیاروں کی مخالفتیں کرتے ہیں۔اور ظاہر ہے جب مسیح موعود نے دعوی کرنا تھا تو اللہ تعالیٰ کی یہ ہمیشہ کی سنت یہاں بھی جاری ہوئی تھی اور ہوئی۔آپ کی مخالفت بھی ہوئی، آپ کا استہزاء بھی کیا گیا۔آپ کے ماننے والوں کو وقتا فوقتا تکلیفیں بھی دی جاتی رہیں اور دی جاتی ہیں۔اور نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر مسلمانوں نے احمدیوں کو تکلیفیں دینا خدمتِ اسلام سمجھا ہے۔