خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 234
خطبات مسرور جلد ہشتم 234 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 سورۃ الفرقان کی اس آیت سے پہلے جو آیت ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: 31)۔اور رسول نے کہا کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا ہے۔اس میں جہاں کفارِ مکہ کے قرآن کو نہ ماننے کا بیان ہے وہاں اس زمانے میں جب مسیح موعود کی بعثت ہوئی تھی اور آپ نے قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کی طرف بلانا تھا، قرآن کریم کی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی دعوت دینی تھی، اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خود تو قرآنِ کریم کی تعلیم کو بھلا بیٹھی ہے اور جب زمانے کا امام بلاتا ہے کہ آؤ میں تمہیں قرآنی تعلیم کے اسرار اور رموز سکھاؤں تا کہ تم اس خوبصورت تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرو اور اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچاؤ، تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔پس اس آیت کے بعد جو آیت ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے، جس کی ابھی تلاوت کی ہے۔اس میں مسیح موعود اور آپ کی جماعت کو بھی تسلی کرائی گئی ہے کہ خدا اور قرآن کے نام پر جو تمہاری مخالفتیں کی جارہی ہیں یہ قرآن کریم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہیں۔لیکن فکر کی کوئی بات نہیں، انبیاء سے یہی سلوک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہادی ہے ، وہ اس سلوک کی وجہ سے انشاء اللہ تعالیٰ بہت سوں کے ہدایت کے سامان بھی فرمائے گا۔وہ تمہارا نصیر اور مددگار بھی ہے۔جو مجرم ہیں جو نام نہاد علماء ہیں، جو لیڈر ہیں، جو عوام الناس کو مخالفتوں پر ابھارتے ہیں، ان کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔اور یقیناً کامیابیاں مسیح موعود کی جماعت کو ہی ملنی ہیں، انشاء اللہ۔مخالفین کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی پس چاہے یہ لوگ مخالفتیں کریں، یا جتنا بھی زور لگانا ہے کسی بھی رنگ میں لگالیں۔ان کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔اور یہ سب مخالفتیں ایک دن ان مخالفین پر ہی کو ٹائی جائیں گی۔پس ان مخالفین سے میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی خوفِ خدا ہے، تو خدا تعالیٰ کی اس لاٹھی سے ڈرو جو بے آواز ہے اور اس کے عذابوں سے پناہ مانگو۔کیونکہ وہ اپنے پیاروں کے لئے بہت غیرت دکھاتا ہے۔پس یہ موقع جو اللہ تعالیٰ دے رہا ہے اس سے مخالفین کو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔بجائے نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر اپنی دنیاو آخرت خراب کرنے کے اس شخص کی بات سنیں جو بڑے درد سے یہ بات کہتا ہے۔ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھر نری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابلِ رحم حالت اس قوم کی ہو گی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے۔پس آج بھی ہم اپنے مخالفین اور ان لوگوں سے جو احمدیوں کو تکلیفیں پہنچانا کار ثواب سمجھتے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اُس اسوہ پر چلتے ہوئے، جو آپ نے اپنے اور ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی ایام سے لیا ہے، یہ کہتے ہیں کہ تمہاری ہمدردی اور خیر خواہی ہمیں مقدم