خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد ہشتم 232 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مئی 2010ء بمطابق 21 ہجرت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَ كَذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوا مِنَ الْمُجْرِمِينَ ، وَكَفَى بِرَتِكَ هَادِيًا وَ نَصِيرًا (الفرقان:32) جب دنیا میں انبیاء آتے ہیں تو انبیاء اور ان کی جماعتوں سے ہمیشہ یہ سلوک ہوتا ہے کہ ان کی مخالفت کی جاتی ہے، ان سے جنسی ٹھٹا کیا جاتا ہے۔جس آیت کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں قرآنِ کریم نے اسی بات کا نقشہ کھینچا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے۔”اور اسی طرح ہم ہر نبی کے لئے مجرموں میں سے دشمن بنا دیتے ہیں، اور بہت کافی ہے تیر ارب بطور ہادی اور بطور مدد گار “۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر نبی کی مخالفت کی گئی اور یہ مخالفت کرنے والے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے لوگ نہیں ہوتے بلکہ مجرموں میں سے ہیں۔اور جب خدا کے نام پر خدا کے پیاروں کو تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں تو پھر ان مجرموں کے جرم بھی اور بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پس جب آنحضرت صلی علیکم کی مخالفت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی فرمایا کہ یہ مخالفتیں مجرموں کا کام ہے۔دشمنانِ دین ہمیشہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ نبی کے پیغام کی مخالفت کریں۔اس کے کام میں روکیں ڈالیں۔اس کے ماننے والوں کو تکلیفیں پہنچائیں۔لیکن یہ مخالفتیں ، یہ تکلیفیں، یہ قتل مخالفین کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتے۔آخر کار انبیاء ہی جیتا کرتے ہیں اور مخالفین اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنتے ہیں۔مکہ میں مسلمانوں پر ظلم وستم مکہ میں یہ سورۃ نازل ہوئی، سورۃ الفرقان، جس کی آیت میں نے پڑھی ہے۔مخالفین نے وہاں کیا کیا ظلم آنحضرت صلی علم اور آپ کے ماننے والوں پر نہیں کئے۔ہر ظلم جو آپ پر ہو تا تھا اور آپ کے ماننے والوں پر ہوتا اس پر آپ صبر فرماتے اور صبر کرنے کی تلقین فرماتے۔اس بارے میں تاریخ میں کئی ایک درد ناک واقعات ہیں۔ایک واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے جو عمار ان کے والد یا سر اور والدہ سمیہ کا آتا ہے جن پر بے انتہا ظلم کیا جاتا تھا۔ایسے