خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد ہشتم 231 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کا بھی صحیح ادراک کر سکے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔پس جب یہ ہدایت آگئی تو اس کے مطابق ہی اب ایک مومن کو چلنا ہے۔اور اگر سمجھ نہیں آتی تو پھر جو امام اور جو معالج اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔اسی میں دنیا کی بقا ہے۔جس کے لئے پہلی آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے طریق بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی عبادت کی ضرورت ہے اور اس بھیجے ہوئے کو ماننے کی ضرورت ہے۔اگر سمجھ نہیں آتی تو پھر اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر مدد مانگی جائے کہ اللہ تعالیٰ صحیح راہنمائی فرمائے تاکہ ہم اس کا حق ادا کر سکیں۔اور دوسرے اس تسبیح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا تک پہنچانا بھی فرض ہے۔اور یہی ہر قسم کی کجی سے پاک ایک مومن کی نشانی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم خالص ہو کر اس کے بھیجے ہوئے کے ساتھ بجڑ کر اس تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے ہوں اور صحیح رنگ میں تسبیح کرنے والے ہوں، اس کی عبادت کرنے والے ہوں اور اس کے پیغام کو پہنچانے والے ہوں۔مصر کے احمدیوں کے لئے بھی میں پھر خاص طور پر دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں۔وہاں گزشتہ کچھ عرصے سے جماعت کے خلاف ایک شور اٹھا ہوا ہے اور ہمارے بارہ، تیرہ کے قریب احمدی حراست میں ہیں جن کا ابھی تک پتا نہیں لگ رہا کیا بنا ہے ؟ اس لئے ان کے لئے خاص طور پر دعا کریں اللہ تعالیٰ جلد ان کی رہائی کے بھی سامان پیدا کرے۔شاید ان کا خیال ہے کہ اسیر بنا کر وہ ان کو ایمان سے پھیر لیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر احمدی جو دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا ہے وہ اپنے ایمان کے لحاظ سے بڑا مضبوط ہے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ بھی اسی طرح مضبوطی کا اظہار کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے، انشاء اللہ۔اور یہی مجھے پیغام بھیج رہے ہیں کہ آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ ہمارے ایمان میں کوئی لغزش نہیں آئے گی۔بلکہ گزشتہ دنوں ایک خاتون کو بھی گرفتار کر لیا تھا پھر چھوڑ دیا۔اور پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی دعا کریں۔وہاں بھی کافی سخت حالات ہیں۔اللہ تعالیٰ دنیا کو مسیح محمدی کے پیغام کو سننے کی اور سمجھنے کی اور ماننے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہر قسم کی کجیاں دنیا سے دور ہوتی چلی جائیں۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے تو ذرائع مہیا فرما دیئے ہیں اب اس سے فائدہ اٹھانا بندوں کا کام ہے۔اگر نہیں اٹھاتے تو پھر اللہ تعالیٰ کس طرح ٹھیک کرتا ہے، کیا سامان پیدا فرماتا ہے یہ وہ بہتر جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو کسی بھی قسم کی آفت اور بلا اور تباہی سے محفوظ رکھے اور اپنی طرف جھکنے والا خالص بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 23 مورخہ 4 جون تا 10 جون 2010ء صفحہ 5 تا 7)