خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 230

خطبات مسرور جلد ہشتم 230 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 اسی جگہ سے بتا دیئے۔کیونکہ قرآنِ کریم کا فہم اور عرفان اس زمانے کی بیماریوں کے مطابق آپ کو ہی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔اور پھر جب ہر قسم کی ناسخ و منسوخ کے الزام سے اس کلام قرآنِ کریم کو پاک کر دیا تو پھر ہی پتہ لگ سکتا تھا کہ کیا صحیح علاج ہیں اور یہ کام بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی فرمایا۔اور حقیقی مومنوں اور قرآنِ کریم پر غور کرنے والوں کو آپ کی تفسیروں اور وضاحتوں اور تعلیم کی روشنی میں جو قرآنِ کریم سے نکال کر آپ نے ہمارے سامنے رکھی حسب ضرورت یہ علاج میسر آتے رہے۔پس جو لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کی ضرورت نہیں تھی یا اب کسی مصلح کے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کی بیماریاں جو ہیں وہ ظاہر ہو کر پھر بڑھتی چلی جاتی ہیں اور بڑھتی چلی جارہی ہیں لیکن وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ جو اس زمانے کا امام اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کو قبول کریں۔یہ سب دشمنیاں جو ہیں ان میں اضافہ ہو تا چلا جارہا ہے۔خود کش حملے جو ہیں، قتل و غارت جو ہے، دہشت گر دی جو ہے کیا یہ اسلامی تعلیم ہے ؟ خدا کے نام پر اور مذہب کے نام پر ظلم جو ہے، یہ اسلام کی تعلیم ہے؟ یقیناً نہیں۔صرف ان لوگوں نے نا سمجھی یاڈھٹائی کی وجہ سے اس تعلیم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے جو حقیقی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیش فرما ر ہے ہیں۔یہ سب چیزیں جو ہیں جس پر آج کل مسلمانوں کے عمل ہو رہے ہیں، یہ تو اپنے عارضی ربوں کو خوش کرنے کے لئے ہیں۔جبکہ مسیح موعود واحد و یگانہ خدا کی طرف بلا رہے ہیں اور اس تعلیم پر عمل کروانے کے لئے دعوت دے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ تم پر اتاری اور جو حقیقی اسلامی تعلیم ہے۔ایک طرف تو بعض طبقوں کی طرف سے پر یشان ہو کر یہ دعوے بھی کئے جارہے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت ہے۔مسلمانوں میں خلافت کی ضرورت ہے۔اور دوسری طرف اس چیز کو ٹھیک کرنے کے لئے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سامان پیدا فرمائے ہیں اور معالج بھیجا ہے تو اس کو قبول کرنے کے لئے یہ لوگ تیار نہیں ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى ( الا علی :4)۔جس نے طاقتوں کا اندازہ کیا اور ہدایت دی۔اس کا تعلق بھی پہلی آیت سے ہے۔اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ قدر فھدی کے دو معنی ہوں گے۔جیسا کہ پچھلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ انسان میں ترقی کی استعد ادر کھی گئی تھی اور اسے کامل القویٰ بنایا گیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کی طاقتوں کا اندازہ کر کے اس کے متواتر ترقی کرتے چلے جانے کے ذرائع مہیا کئے ہیں۔یعنی پہلے پیدائش کو اس تعلیم اور طاقت کے مطابق کیا پھر تعلیم بھجوائی۔یعنی جوں جوں ذہنی اور جسمانی طاقتوں نے ترقی کی اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ جب بھی انسان کج ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت کے مطابق ہدایت بھجوا دی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 405-406 مطبوعہ ربوہ) اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ یہ ہدایت کامل طور پر آنحضرت صلی علیم کے ذریعہ نازل فرمائی تا کہ