خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 228
خطبات مسرور جلد ہشتم 228 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 کے مادے اس میں موجود ہیں۔عموماً ایک نارمل بچے کی جب پیدائش ہوتی ہے تو اس میں تمام ضروری طاقتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔اور جوں جوں اس کی نشو و نما ہوتی رہتی ہے اور جس طرح پہلے زمانوں میں بھی ہوتی رہی ان طاقتوں میں اس ماحول کے لحاظ سے نکھار پیدا ہو تا چلا جاتا ہے۔بیشک بعض ذہنی اور جسمانی لحاظ سے کمزور بھی ہوتے ہیں لیکن یہ عمومی حالت نہیں ہے۔پس انسان کو جب اشرف المخلوقات بنایا تو اس میں ذہنی صلاحیتیں بھی ایسی رکھیں کہ اگر ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو تمام مخلوق کو وہ زیر کر لیتا ہے۔گویا انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا پر تو بن سکتا ہے۔اور جیسا کہ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں اس کا کامل نمونہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی ال علم ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل تعلیم اتاری اور اس مزاج کے مطابق اتاری جو انسان میں خدا تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے یا جس کی نشو و نما اس زمانے میں ہو چکی تھی اور آئندہ بھی انسان کی ذیلی صلاحیتوں کا اور اس کے قویٰ کا نشو و نما اب قیامت تک ہوتے چلے جانا ہے۔انسان کی فطرت میں اگر اللہ تعالیٰ نے نرمی اور غصہ رکھا ہے تو یہ بھی عین ضرورت کے مطابق ہے۔کبھی نرمی کا اظہار ہو جاتا ہے، کبھی غصہ کا اظہار۔اس لئے قرآنِ کریم میں جو تعلیم آنحضرت صلی علیم پر اتاری گئی ہے اس میں بھی یہی فرمایا ہے کہ غصے کا اور نرمی کا اظہار اپنے وقت پر کرو تبھی ان انسانوں میں شامل ہو گے جو سوی کے لفظ کے تحت آتے ہیں۔یعنی جب ہر عمل جو ہے موقع اور محل کے مطابق ہو۔مثلاً اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کے لئے معاف کرنے میں اصلاح کا پہلو نکلتا ہے یا سزا دینے میں۔اگر صرف ہر صورت میں معاف ہی کیا جاتا رہے تو معاشرے میں ان لوگوں کے ہاتھوں جو ہر وقت فساد پر تلے رہتے ہیں معاشرے کا امن برباد ہی ہو تا چلا جائے گا۔پس ایک عقل مند اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھنے والا انسان ہمیشہ اعتدال سے کام لیتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو اس طرح پیدا کیا ہے جو ہر لحاظ سے مناسب ہے۔عیب سے پاک ہے۔پھر عقلمند انسان کا ہر عمل اور فعل، موقع اور محل کے مناسب حال ہوتا ہے۔خَلَقَ فسوى ( الا علی : 3 ) کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس میں جب خرابیاں پیدا ہوتی ہیں تو اس عیب کو درست کرنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ سامان پیدا فرماتا ہے۔بیماریاں ہیں تو ان کا علاج ہے اور یہ علاج کے طریق بھی خدا تعالیٰ ہی سکھاتا ہے۔بعض دہر یہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید ان کی دماغی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں علاج سمجھ آگیا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کے پیچھے سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کار فرما ہے۔اور یہ باتیں پھر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا ذہن عطا فرمایا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے لئے، سہولیات کے لئے ایجادات کرتا چلا جارہا ہے۔مثلاً بیماریوں کے خلاف علاج ہے تو اس کے بھی نئے نئے طریق نکال رہا ہے۔بہت سی بیماریاں جو پہلے نہیں ہوتی تھیں یا پتہ نہیں تھا، جن کی صلاحیت نہیں تھی جب اللہ تعالیٰ نے صلاحیت پیدا کی، انسان کی نشو و نما کی۔اس کی ذہنی اور جسمانی طاقتیں بڑھائیں تو بعض ایسی نئی نئی باتیں بھی اس کے