خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد ہشتم 229 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 ذہن میں پید اہو گئیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنی زندگی کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔مثلاً دل ہے انسان کا۔پہلے تو کسی کو پتہ ہی نہیں لگتا تھا یا انسانی زندگی اتنی سخت تھی کہ ورزش کی وجہ سے اور اپنی دوسری مصروفیات کی وجہ سے اور ایسی خوراک ہونے کی وجہ سے جو دل کو نقصان نہیں پہنچاتی ، دل کی بیماریاں نہیں تھیں۔لیکن جہاں جہاں اور جوں جوں انسان کی بعض صلاحیتیں بڑھتی چلی گئیں ، بیماریاں بڑھتی چلی گئیں۔دل کی بیماریاں بھی ان میں سے ایک ہیں۔اس کا علاج کا طریقہ آپریشن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سمجھایا۔پھر اس میں ترقی ہوئی تو ایک اور طریقہ اینجو پلاسٹی کا سمجھایا جو اس سے زیادہ آسان ہے۔اور اب مزید سٹیم سیل (Stem Cell) کے ذریعے علاج کی ریسرچ ہو رہی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ انسانی صلاحیتوں کو ساتھ ساتھ اس کی ضروریات کے مطابق اجاگر کرتا چلا جاتا ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہے۔یہ وہ اعلیٰ رہ ہے جس کی تعریف ایک بندے پر فرض ہے۔وہ اگر عیبوں کو ظاہر فرماتا ہے تو اس کے لئے پھر اس کا مداوا اور علاج بھی سمجھا دیتا ہے۔ایک موحد جب بھی نئی ریسرچ دیکھتا ہے تو اسے خدا تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب کرتا ہے۔آنحضرت صلی السلام کی بعثت اور جب اللہ تعالیٰ جسمانی بیماریوں کے علاج کی طرف یوں رہنمائی فرمارہا ہے تو روحانی بیماریوں کے علاج کے سامان بھی کرتا ہے اور کیوں نہیں کرے گا۔پس ہر زمانے میں انبیاء روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے آئے اور اپنے اپنے وقت کی بیماریوں کے علاج کرتے رہے۔جب انسانی زندگی روحانی بیماریوں کا مجموعہ بن گئی اور نئی نئی بیماریاں پیدا ہو گئیں، ہر زمانے کی بیماری جمع ہو گئی تو آنحضرت صلی اللہ ظلم کو مبعوث فرمایا اور قرآنِ کریم کی کامل تعلیم اتاری جس نے علاج کیا اور آنحضرت صلی علیہ ہم نے اپنے زمانے میں اس کے اعلیٰ ترین نمونے اپنی قوتِ قدسیہ سے دکھائے۔اس تعلیم کی روشنی میں دکھائے جس سے انسانوں کو ، جانوروں کو باخدا انسان بنادیا۔لیکن ایک زمانے کے بعد جب مسلمان بھی اس تعلیم کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے اور اس پر عمل کرنا بھول گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو اپنے وعدے کے مطابق بھیجا جنہوں نے پھر اس تعلیم میں سے جو قرآنِ کریم کی صورت میں موجود تھی، علم و عرفان کے موتی نکال کر ہماری بیماریوں کے علاج کئے۔اور یہ بتایا کہ امت میں جو بیماریاں پیدا ہوئی ہیں، ان کے علاج یہ ہیں۔اور میرے ساتھ جڑو گے تو اس سے اپنے علاجوں میں کامیاب ہو سکتے ہو۔ڈاکٹروں کو تو نئی بیماریوں کا علاج ایک ریسرچ اور لمبا عرصہ محنت کرنے سے پتہ لگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے روحانی علاج کے لئے چودہ سو سال پہلے قرآنِ کریم میں کامل شریعت اتار کر یہ علاج رکھ دیا تھا۔اور ہر زمانے میں جو اللہ کے بندے تھے اس کو سمجھتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور آخر پر جو مزید نئی بیماریاں پیدا ہوئی تھیں ان کے علاج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر