خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 211

خطبات مسرور جلد ہشتم 211 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 شہادتوں اور غیر قوموں کی قدیم تحریروں سے ان غلط اور خطر ناک خیالات کو دور کروں جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے اکثر فرقوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی اور آخری زندگی کی نسبت پھیلے ہوئے ہیں“۔مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 3) پھر آپ نے فرمایا:۔”سو میں اس کتاب میں یہ ثابت کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے اور نہ کبھی امید رکھنی چاہئے کہ وہ پھر زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے بلکہ وہ 120 برس کی عمر پا کر سری نگر کشمیر میں فوت ہو گئے اور سری نگر محلہ خانیار میں ان کی قبر ہے“۔مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 14) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کتاب میں پہلے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیبی موت سے بچنے کے انجیلی دلائل دیئے ہیں۔پھر قرآن و حدیث کی شہادتوں کا ذکر فرمایا۔جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت سے بچنے کا پتا چل جاتا ہے۔پھر تیسرے باب میں طب کی کتابوں کی شہادتوں کو بیان کیا ہے ، جس سے صلیب سے زندہ بچنے کے بعد مرہم عیسی کے استعمال اور اس سے شفا کا ذکر ہے پھر آخر میں آپ نے تاریخی شہادتوں کا جو کتب تاریخ سے لی گئی ہیں ان کا ذکر فرمایا ہے کہ نصیبین میں، افغانستان میں اور ہندوستان کی طرف ہجرت کی۔آپ نے فرمایا کہ: "جو شخص میری کتاب مسیح ہندوستان میں اول سے آخر تک پڑھے گا گو وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی یا آریہ ممکن نہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اس بات کا وہ قائل نہ ہو جائے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کا خیال لغو اور جھوٹ اور افتراء ہے“۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 145) بہر حال ٹیورین کے مختصر دورے کے بعد سوئٹزر لینڈ روانگی ہوئی۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل۔بعض لوگوں کو بیعت کرنے کی توفیق ملی اور دستی بیعت بھی یہاں ہوئی۔یہاں اٹلی کے ایک نوجوان ہیں جو بڑے سلجھے ہوئے ہیں یہیں کام کرتے ہیں اور دینی علم کے حصول کا بھی انہیں بہت شوق ہے۔انہوں نے چند سال پہلے انہوں نے بیعت کی تھی۔میرے ساتھ ان کی پہلی ملاقات تھی۔جماعت کے کچھ لٹریچر کا وہ اٹالین میں ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔تو میں نے انہیں کہا کہ اس طرف بھی اب توجہ دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے بھی کچھ ترجمے کریں۔تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت مسیح ہندوستان میں“ اس کتاب کا ترجمہ کر رہے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ جلد مکمل ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کے علم و معرفت میں بھی ترقی دے ان کے اخلاص اور ایمان میں بھی برکت ڈالے۔جمعہ کے بعد سوئٹزرلینڈ سے فرانس کی طرف روانگی ہوئی اور سٹر اس برگ میں قیام ہوا۔دنیاوی لحاظ سے تو اس کی مشہوری ہے۔یوروپین پارلیمنٹ کا مرکز ہے۔لیکن یہاں جماعت کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ یہاں