خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 210

210 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم قرابادین تالیف ہوئی جس میں یہ نسخہ تھا اور جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔پھر وہ قرابادین کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی یہاں تک کے مامون رشید کے زمانہ میں عربی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا اور جن کتابوں میں ادویہ مفردہ کے خواص لکھے ہیں ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ اُن چوٹوں کے لئے نہایت مفید ہے جو کسی ضربہ یا سقطہ سے لگ جاتی ہیں“۔یعنی چوٹ، مارنے کی چوٹ ہے یا گہر از خم ہے۔اور چوٹوں سے جو خون رواں ہوتا ہے وہ فی الفور اس سے خشک ہو جاتا ہے اور چونکہ اس میں مر بھی داخل ہے اس لئے زخم کیڑا پڑنے سے بھی محفوظ رہتا ہے۔اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے۔اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت عیسی علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا کسی طبیب کے مشورہ سے تیار کی گئی تھی۔اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں۔خاص کر مر جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔بہر حال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام کے زخم چند روز میں ہی اچھے ہو گئے۔اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ تین روز میں یروشلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پاگئے“۔معلوم مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 58-57) پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا ہے:۔یعنی جب کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہود عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ کے پنجہ میں گرفتار ہو گئے اور یہودیوں نے چاہا کہ حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر قتل کریں تو انہوں نے گرفتار کر کے صلیب پر کھینچنے کی کارروائی شروع کی مگر خدا تعالیٰ نے یہود کے بد ارادہ سے حضرت عیسی کو بچا لیا۔کچھ خفیف سے زخم بدن پر لگ گئے۔سو وہ اس عجیب و غریب مرہم کے چند روز استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے۔یہاں تک کہ نشان بھی جو دوبارہ گرفتاری کے لئے کھلی کھلی علامتیں تھیں بالکل مٹ گئے۔یہ بات انجیلوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب حضرت مسیح نے صلیب سے نجات پائی کہ جو در حقیقت دوبارہ زندگی کے حکم میں تھی تو وہ اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زندہ سلامت ہونے کی خبر دی۔حواریوں نے تعجب سے دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان کی روح متمثل ہو گئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑگئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی۔“ (ست بچن۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 301) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ یہ فرماتے ہیں کہ :۔”اس کتاب کو میں اس مراد سے لکھتا ہوں کہ تا واقعاتِ صحیحہ اور نہایت کامل اور ثابت شدہ تاریخی