خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد ہشتم 212 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 جماعت کی تعداد بڑھ بھی رہی ہے اور دو سو کے قریب یہاں افراد ہیں۔اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ستر فیصد غیر پاکستانی افرادِ جماعت ہیں اور اخلاص میں بڑھنے والے لوگ ہیں۔یہاں بھی قیام کے دوران دو نئی بیعتیں ہوئیں اور بعض شخصیات سے ملنے کا موقع ملا۔اسلامی تعلیم بتانے کا اور اسلام کی تعلیم کی روشنی میں دنیا میں امن کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے اس بارے میں باتیں ہوئیں۔یہاں کے آرچ بشپ کے نمائندہ مسٹر مائیکل ریبر ( Micheal Reebar) آئے تھے اُن سے بھی ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آرچ بشپ نے آنا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔عالمی امن کے بارے میں ، اسلامی تعلیم کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔بڑے شریف النفس انسان ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ بعض عرب ممالک میں بھی رہے ہیں۔عربی بھی ان کو آتی تھی۔ایک بات پر وہ کہنے لگے کہ تینوں مذاہب جو ہیں یعنی یہودی عیسائی اور مسلمان ایک نکتے پر اکٹھے ہیں اور وہ ایک خدا ہے۔تو میں نے کہا کہ اگر آپ اس چیز کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتادیا ہے، بلکہ قرآن شریف میں اہل کتاب سے یہ کہنے کا لکھا ہوا ہے۔کہ تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ - ( آل عمران:65) تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اہل کتاب کو کہہ دو ایسی بات پر اکٹھے ہو جائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرانا۔مجھے اس بات پر بھی حیرت ہوئی کہ یہ ایک خدا کی بات کر رہے ہیں۔اور باتوں میں انہوں نے یہ بھی مجھے بتایا کہ میں تو اکثر تمہارے خطبے اور خطابات ایم ٹی اے پر بھی سنتا رہتا ہوں۔بہر حال کافی اچھے ماحول میں کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔تو یہ سب جیسا کہ میں نے کہا جہاں جماعتی تربیت وغیرہ کا باعث بنتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت اور اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچانے کا بھی باعث بنتے ہیں۔سٹر اس برگ میں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ستر فیصد احمدی غیر پاکستانی ہیں۔اور ان میں بھی اکثریت عربی بولنے والے ممالک کی ہے۔اس سفر کے دوران بعض جگہ نو مبائعین کو خدا تعالیٰ نے خواب کے ذریعے یہ بتادیا کہ اس علاقے سے ہم گزر رہے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے رابطہ کیا اور ان کے لئے پھر یہ بات ازدیاد ایمان کا باعث بنی اور آخر انہوں نے ملاقات بھی کی۔یہاں تھوڑا سا قیام تھا۔امیر صاحب فرانس جو اس سفر کی تیاری کے لئے مختلف جگہوں پر گئے انہوں نے بھی بتایا کہ اس سفر کے دوران حیرت انگیز طور پر ہمیں تھیں بیعتیں بھی حاصل ہوئیں۔اور یہ عجیب واقعہ ہے کہ 29 مارچ کو جب ہم فرانس سے سپین کی طرف گئے ہیں تو وہ (امیر صاحب) ایک بیعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خاکسار جب پیرس واپس پہنچا تو ڈاک کے ذریعے خاکسار کو مراکش کی ایک خاتون کا بیعت فارم موصول ہوا جو فرنچ نیشنل ہے۔خاکسار نے فون پر اس سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کافی عرصے سے ایم ٹی اے بھی میں دیکھتی ہوں۔اور میں نے کچھ عرصہ قبل ایک خواب دیکھی کہ بہت سی احمدی گاڑیاں ادھر سے گزری ہیں اور میں بھی احمدیوں کی گاڑی میں بیٹھ گئی ہوں۔میں نے اس سے پوچھا