خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 206
خطبات مسرور جلد ہشتم 206 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 نے کہا کہ کیمرہ بے شک استعمال کریں۔لیکن فلمیش استعمال نہ کریں بہر حال ایم ٹی اے کے کارکنوں اور ہمارے فوٹو گرافروں نے وہاں تصویریں لی ہیں۔پہلے ہال میں جب ہم داخل ہوئے ہیں تو انہوں نے ہمیں جا کر بڑی سکرین پر شراؤڈ کی تصویریں دکھائیں اور دکھا کر اس کے ساتھ وضاحت کرتے رہے اور ہر عکس کے بارے میں بتاتے رہے کہ کس کس چیز کا ہے یہ چہرہ ہے ، ہاتھ ہے، پاؤں ہیں۔کلوزاپ کر کے دکھاتے تھے۔لیکن یہ سب دکھانے کے ساتھ ان ڈائریکٹر صاحب نے مختصر تعارف بھی اس کا بیان کیا اور بتایا کہ چودھویں صدی سے اس شر اوڈ کی تاریخ کا پتا ہے کہ کہاں کہاں رہا ہے ؟ لیکن بعض شواہد ایسے ہیں جن سے پانچویں صدی عیسوی میں بھی جہاں جہاں یہ رہا ہے اس کا پتا لگتا ہے بہر حال اسی تسلسل میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ایک کپڑا ہے جس کی لمبائی 4۔42 میٹر ہے۔چوڑائی 1۔13 میٹر ہے۔اس پر ایک شخص کا عکس ہے۔جو کسی بہت بڑے نیک شخص کا عکس لگتا ہے اور انہوں نے یہ کہا اگر اس کپڑے کی تاریخ وغیرہ پر غور کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ حضرت عیسی کا عکس ہے اور اس کی 1898ء میں ایک شخص نے تصویر لی تھی جس کا نام Secondo Pia تھا۔غالباًpronounce اسی طرح ہی کرتے ہیں اور اس تصویر میں اس کپڑے کے عکس کا پوزیٹو (Positive) بنا اور یوں حقیقی شکل بھی سامنے آئی۔بہر حال پھر اس کے بعد یہ ہمیں چرچ کے بڑے ہال میں لے گئے۔جہاں لوگ گزرتے جارہے تھے اور سامنے سٹیج کی طرح کی ایک جگہ پر بہت بڑے شیشے کے بکس میں اس کی نمائش کی جارہی تھی۔اس کے پیچھے روشنی پڑ رہی تھی۔ان ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس ڈبے کے اندر بھی بعض گیسز ہیں جو اس لئے اندر رکھ چھوڑی ہیں یا چھوڑی جاتی ہیں تا کہ یہ کپڑ ا خراب نہ ہو۔بہر حال ہمیں انہوں نے باقی لوگوں کو وقفہ دے کر آنا بند کر کے اس بکس کے جو قریب ترین گلی تھی وہاں کھڑا کر دیا جہاں سے ہم نے کافی دیر تک اس کو دیکھا۔تصویریں لینے والوں نے تصویریں بھی لیں۔شاید کسی اور کو بھیجتے تو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھنے کا ان کو موقع نہ ملتا۔جو وہاں بر وشر ہمیں دیا گیا تھا جس پر تفصیلات لکھی ہوئی تھیں تصویریں بنی ہوئی تھیں اس میں بھی لکھا ہوا تھا اور ڈائریکٹر نے بتایا کہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان پولنز (Polens) سے جو شر اوڈ پر لگے ہوئے ہیں یہ کپڑا فلسطین اور مشرقی وسطی کے علاقے سے آیا ہے اور یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم جو اسے کفن مسیح کہتے ہیں یہ صحیح ہے۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ 1898ء میں یہ تصویر لی گئی تھی اور اس کے بعد سے اس کپڑے کو پہلے تو متبرک سمجھا جاتا تھا پھر اس کو کفن مسیح بھی کہنے لگے۔اُس زمانے میں 1899ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسیح ہندوستان میں“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔چھپی تو 1908ء میں لیکن لکھی اس وقت گئی تھی۔گو اس کے علاوہ بھی آپ کی تحریرات اور کتب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے زندہ بچ جانے اور مرہم عیسی وغیرہ کا ذکر بھی آتا ہے۔لیکن اس کتاب میں آپ نے تفصیل سے اس پر بحث فرمائی ہے۔کفن مسیح کے