خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 207

خطبات مسرور جلد ہشتم 207 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 بارے میں اس وقت تک شاید انگریزی لٹریچر میں کوئی بات نہیں آئی تھی تفصیلات نہیں آئی تھیں۔گو کہ کہتے ہیں کہ اٹالین اور جرمن میں معلومات تھیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کفن کا ذکر تو نہیں فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے آپ کے وقت میں ہی مزید حقائق ظاہر فرما کر حضرت عیسی کے صلیب سے بچ جانے کے مزید شواہد مہیا فرما دیئے۔بہر حال اس نمائش کو دیکھنے کے بعد یہ ڈائر یکٹر صاحب ہمیں ساتھ ایک کیتھیڈرل تھا اس کی عمارت میں لے گئے۔پہلے نیچے سے دکھایا پھر اوپر والی منزل میں لے گئے کہ لائبریری اوپر ہے اور اوپر جا کر لائبریری دیکھ لیں۔میں نے کہا چلیں۔لیکن جب ہم اوپر پہنچے ہیں تو ایک اور صاحب وہاں کھڑے تھے جو پروفیسر صاحب تھے۔ان کے بارے میں انہوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ بھی ملیں گے۔یہ پروفیسر اس دینی ادارے کے اسلامی علوم کے ماہر سمجھتے جاتے ہیں۔مختلف عرب ممالک میں رہ کر انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا وہ وہاں کھڑے تھے۔پھر یہ دونوں ایک میٹنگ ہال میں ہمیں لے گئے کہ پہلے یہاں کچھ دیر بیٹھتے ہیں۔بڑے احترام سے انہوں نے وہاں بٹھایا۔پھر آپس میں مختلف سوال جواب شروع ہوئے، باتیں شروع ہوئیں۔مجھ سے انہوں نے پوچھا کہ کیوں دیکھنے کا شوق پیدا ہوا؟ کیا جذبات اور تاثرات ہیں؟۔وغیرہ وغیرہ۔اس سے پہلے میں ان کا مزید تعارف کرادوں۔میں نے پہلے تعارف تو کروایا ہے کہ بڑے پادری تھے لیکن یہ ڈائریکٹر جن کا میں نے ذکر کیا ہے کفن مسیح کی حفاظت کے لئے متعین جو کمیٹی ہے اس کے صدر بھی ہیں اور یہ نمائش بھی ان کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔ان کا نام مونسونیئر لیبرٹی ہے اور جو اسلامی علوم کے ماہر ہیں یہ مستشرق ہیں ان کا نام ڈون تینو نیگری ہے۔میں نے انہیں بتایا کہ اس شہر میں آنے کا پروگرام تو اتفاقا بن گیا تھا لیکن جب پتا لگا کہ کفن مسیح کی نمائش ہو رہی ہے تو دیکھنے کا شوق بھی پیدا ہوا اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم جو جماعت احمدیہ سے منسلک ہیں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ کپڑا یقینا حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے استعمال ہوا ہو گا۔لیکن اس کے لئے یہ جو نتیجہ آپ اخذ کرتے ہیں اس سے ہمارا نظریہ مختلف ہے۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔یہودیوں نے جب انہیں صلیب پر مارنا چاہا تو چونکہ یہ موت جو ہے ایک نبی کی شان کے خلاف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں صلیب سے بچا لیا اور بانی جماعت احمد یہ جنہیں ہم مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مانتے ہیں آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کو ثابت بھی فرمایا ہے اور یہ کپڑا بھی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی موت کا نہیں بلکہ زندگی یعنی صلیب سے بچ جانے کا ثبوت ہے۔اس لحاظ سے یہ متبرک ضرور ہے۔لیکن ہمارے اور آپ کے نظریات میں اختلاف ہے۔وہ مستشرق کہنے لگے کہ آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کشمیر میں فوت ہوئے ؟ میں نے کہا ہاں بالکل یہی بات ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی یہ ثابت فرمایا ہے اور آپ کی اس