خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 205
خطبات مسرور جلد ہشتم 205 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 کے متعلق بیان کیا اور اس زمانے کے امام اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتایا ہے اس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسلام کے نام سے بلا وجہ نفرت کرنے کی بجائے اس خوبصورت تعلیم کی طرف توجہ دینے کی طرف توجہ دلائی۔اور پھر یہ بتایا کہ ہمارے اس سینٹر کے حوالے سے چند ماہ پہلے اس علاقے میں ہمارے خلاف بڑا شور اٹھا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اس علاقے کے میئر اور ہمسایہ شہر کے میئر اور ہمارے آرکیٹیکٹ جو اٹالین ہی ہیں، اور مشن ہاؤس کی Renovation کا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے ہمارے حق میں اس علاقے میں بڑا کام کیا۔بہر حال میں نے ان کو بتایا کہ اسلام کی تعلیم تو بڑی خوبصورت تعلیم ہے اس لئے نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنے کی بجائے آپس میں محبت اور پیار سے رہنا چاہئے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ریسپشن بھی اچھی رہی۔اللہ کرے کہ اس کے بعد ہمارے حق میں مزید زمین ہموار ہو جائے۔یہاں کے بعض تاریخی شہر بھی دیکھنے کا موقع ملا۔یہاں چار پانچ دن قیام کے بعد سوئٹزر لینڈ روانہ ہوئے۔لیکن مجھے لندن سے جانے سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ ٹیورین میں اس کپڑے کی نمائش ہو رہی ہے جسے یہ کفن مسیح کہتے ہیں اور جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب سے اتار کر لپیٹا گیا تھا۔صدر جماعت نے پوچھا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا پسند کریں گے ؟ یہیں مجھے اطلاع مل گئی تھی۔میں نے کہا انشاء اللہ ضرور دیکھیں گے۔انہوں نے وہاں چرچ کی انتظامیہ سے بات کی۔تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی خوشی ہو گی اگر جماعت احمدیہ کے خلیفہ اسے دیکھنے آئیں اور ہم اس کے لئے خاص انتظام بھی کر دیں گے۔چنانچہ سوئٹزرلینڈ جاتے ہوئے شہر ٹیورین راستے میں آتا ہے۔ہم دو پہر کے وقت وہاں پہنچے ہیں اور شام پانچ بجے اس چرچ میں گئے ہیں جہاں اس کی نمائش تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام ہوا ہے۔میرے ذہن میں نہیں تھا کہ نمائش لگی ہوئی ہے۔باوجود اس کے کہ غالباً میر محمود احمد صاحب کی طرف سے اطلاع آئی تھی کہ یہ نمائش لگ رہی ہے اور لندن سے کسی کو بھیج دیں تا کہ دیکھ لے اور آج کل اس زمانے میں بھی ہمارا جماعت احمدیہ کا کوئی عالم اس کا گواہ بن جائے کہ اس نے یہ شراؤڈ (shroud) دیکھا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی عالم کی بجائے مجھے خود ہی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ادنی غلام ہوں اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ خود دیکھ لوں۔اٹلی کے پروگرام کے باوجود جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ خیال نہیں آیا تھا کہ ٹیورین جانا ہو گا۔جو روٹ بنا اس کے راستے میں ٹیورین بھی آتا ہے۔اگر نہ بھی آتا تو جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں اس نمائش کی وجہ سے وہاں میں ضرور جاتا۔بہر حال جب ہم وہاں گئے ہیں تو نمائش کے جو ڈائریکٹر ہیں جو ان کی پادریوں کی کونسل کے بڑے پادریوں میں شمار ہوتے ہیں وہ استقبال کے لئے موجود تھے۔انہوں نے ایسا انتظام کیا اور ایسے دروازے سے ہمیں لے کر گئے جہاں سے عام پبلک نہیں جاتی۔عموماً وہاں کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں