خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 193
خطبات مسرور جلد ہشتم 193 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 میں شامل ہو جانا کافی ہے بلکہ ہر لمحہ تمہیں خدا تعالیٰ کی یاد سے اپنے دل و دماغ کو تازہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر قسم کے شرک سے انتہائی دوری پیدا ہو جائے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک احمدی سے توقع رکھی ہے کہ ہر قسم کے جھوٹ ، زنا، بد نظری، لڑائی جھگڑا، ظلم، خیانت، فساد، بغاوت سے ہر صورت میں بچنا ہے۔ہر وقت اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ میں ان برائیوں سے بچ رہا ہوں ؟ بعض لوگ ان باتوں کو چھوٹی اور معمولی چیز سمجھتے ہیں۔اپنے کاروبار میں ، اپنے معاملات میں جھوٹ بول جاتے ہیں۔ان کے نزدیک جھوٹ بھی معمولی چیز ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی شرک کے برابر ٹھہرایا ہے۔زنا ہے، بد نظری وغیرہ ہے۔یہ برائیاں آج کل میڈیا کی وجہ سے عام ہو گئی ہیں۔گھروں میں ٹیلی ویژن کے ذریعہ یا انٹر نیٹ کے ذریعہ سے ایسی ایسی بیہودہ اور لچر فلمیں اور پروگرام وغیرہ دکھائے جاتے ہیں جو انسان کو برائیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں بعض احمدی گھرانوں میں بھی اس برائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پہلے تو روشن خیالی کے نام پر ان فلموں کو دیکھا جاتا ہے۔پھر بعض بد قسمت گھر عملاً ان برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تو یہ جو زنا ہے یہ دماغ کا اور آنکھ کا زنا بھی ہوتا ہے اور پھر یہی زنا بڑھتے بڑھتے حقیقی برائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ماں باپ شروع میں احتیاط نہیں کرتے اور جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تو پھر افسوس کرتے اور روتے ہیں کہ ہماری نسل بگڑ گئی، ہماری اولادیں برباد ہو گئی ہیں۔اس لئے چاہئے کہ پہلے نظر رکھیں۔بیہودہ پروگراموں کے دوران بچوں کوٹی وی کے سامنے نہ بیٹھنے دیں اور انٹر نیٹ پر بھی نظر رکھیں۔بعض ماں باپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔جماعتی نظام کا کام ہے کہ ان کو اس بارے میں آگاہ کریں۔اسی طرح انصار اللہ ہے، لجنہ ہے، خدام الاحمدیہ ہے یہ تنظیمیں اپنی اپنی تنظیموں کے ماتحت بھی ان برائیوں سے بچنے کے پروگرام بنائیں۔نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو جماعتی نظام سے اس طرح جوڑیں، اپنی تنظیموں کے ساتھ اس طرح جوڑیں کہ دین ان کو ہمیشہ مقدم رہے اور اس بارے میں ماں باپ کو بھی جماعتی نظام سے یا ذیلی تنظیموں سے بھر پور تعاون کرنا چاہئے۔اگر ماں باپ کسی قسم کی کمزوری دکھائیں گے تو اپنے بچوں کی ہلاکت کا سامان کر رہے ہوں گے۔خاص طور پر گھر کے جو نگران ہیں یعنی مردان کا سب سے زیادہ یہ فرض ہے اور ذمہ داری ہے کہ اپنی اولادوں کو اس آگ میں گرنے سے بچائیں جس آگ کے عذاب سے خدا تعالیٰ نے آپ کو یا آپ کے بڑوں کو بچایا ہے اور اپنے فضل سے زمانے کے امام کو مانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔دنیا خاص طور پر دوسرے مسلمان شدید بے چینی میں مبتلا ہیں کہ ان کو کوئی ایسی لیڈر شپ ملے جو ان کی رہنمائی کرے۔لیکن آپ پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہوا ہے کہ زمانے کے امام کی بیعت میں آکر رہنمائی مل رہی ہے۔خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے سے نیکیوں پر قائم رہنے کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے یہ سب فضل تقاضا کرتے ہیں کہ توجہ دلانے پر ہر برائی سے بچنے کا عہد کرتے