خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد ہشتم 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 کی بھی ہر احمدی کو ضرورت ہے۔بیعت بیچ دینے کا نام ہے۔یعنی اپنی خواہشات، تمام تر خواہشات اور جذبات کو خدا تعالیٰ کے حکموں پر قربان کرنے اور ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کا ایک عہد ہے۔اپنی مرضی کو بالکل ختم کرنے کا نام ہے جو خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کیا جاتا ہے اور اگر اس دن پر یقین ہو جو خدا تعالیٰ سے ملنے کا دن ہے، جس دن ہر عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے کن کن باتوں پر ہم سے عہد لیا ہے۔ان کو میں مختصر آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ہر ایک اپنے جائزے خود لے کہ کیا اس کی زندگی اس کے مطابق گزر رہی ہے یا گزارنے کی کوشش ہے۔اگر نہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو سامنے رکھ کر کہ وَ اَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل: 35) اور اپنے عہد کو پورا کرو، ہر عہد کے متعلق یقیناً جواب طلبی ہو گی، ہمیں اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے کہ اس عارضی زندگی کے بعد ایک اخروی اور ہمیشہ کی زندگی کا دور شروع ہونا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم سے کیا عہد لیا ہے ؟ اس کو میں مختصر بیان کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ بچے دل سے ہر قسم کے شرک سے دور رہنے کا عہد کر و۔اور شرک کے بارے میں آپ نے بڑی وضاحت سے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے کہ شرک صرف ظاہری بتوں اور پتھروں کا شرک نہیں ہے بلکہ ایک مخفی شرک بھی ہوتا ہے۔اپنے کاموں کی خاطر اپنی نمازوں کو قربان کرنا یہ بھی شرک ہے۔نمازوں سے بے تو جہگی دوہرا گناہ ہے۔ایک تو اپنے مقصد پیدائش سے دوری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔دوسرے یہ ہے کہ دنیا کو اس پر مقدم کرنا ہے۔گویا کہ رازق خدا تعالیٰ نہیں بلکہ آپ کی کوششیں ہیں اور آپ کے کاروبار یا ملازمتیں ہیں۔بعض دفعہ اولاد بھی خدا تعالیٰ کے حکموں کے مقابلے پر کھڑی ہو جاتی ہے۔وہ بھی ایک شرک کی قسم ہے۔اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کا انکار کر کے اولاد کی بات ماننا بھی ایک قسم کا مخفی شرک ہے۔بلکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی یاد کو یہ چیز میں بھلا دیتی ہیں۔کئی لوگ ہیں جو احمدیت سے دور ہٹے ہیں تو اولاد کی وجہ سے۔اولاد کے بے جالاڈ پیار نے اور اولاد کی آزادی نے اولاد کو جب دین سے ہٹایا تو خود ماں باپ بھی دین سے ہٹ گئے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے۔کہ یایھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكرِ اللهِ ( المنافقون: 10 ) کہ اے مومنو! تمہیں تمہارے مال اور اولا دیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔پس جب بھی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی دوسری چیز اہمیت حاصل کرے گی تو اللہ تعالیٰ کے ذکر ، اس کی یاد، اس کی عبادت سے غافل کرے گی اور یہی مخفی شرک ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقابلے پر دوسری چیزوں کو ترجیح دی جارہی ہو۔یہ غفلت معمولی غفلت نہیں ہے بلکہ ہلاکت کی طرف لے جانے والی غفلت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ ہمارا عہد بیعت کر لینا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت