خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 194
ہو خطبات مسرور جلد ہشتم 194 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 وئے لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں۔نیکیوں پر خود بھی قدم ماریں اور اولاد کو بھی اس پر چلنے کی تلقین کریں اور اس کے لئے کوشش کریں۔خدا تعالیٰ کے اس ارشاد اور انذار کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 7) اے مومنو! اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی آگ سے بچاؤ۔آج کل تو دنیا کی چمک دمک اور لہو ولعب، مختلف قسم کی برائیاں جو مغربی معاشرے میں برائیاں نہیں کہلا تیں لیکن اسلامی تعلیم میں وہ برائیاں ہیں ، اخلاق سے دور لے جانے والی ہیں، منہ پھاڑے کھڑی ہیں جو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کرتی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا پہلے روشن خیالی کے نام پر بعض غلط کام کئے جاتے ہیں اور پھر وہ برائیوں کی طرف ھکیلتے چلے جاتے ہیں۔تو یہ نہ ہی تفریح ہے، نہ آزادی بلکہ تفریح اور آزادی کے نام پر آگ کے گڑھے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جو اپنے بندوں پر انتہائی مہربان ہے ، مومنوں کو کھول کر بتادیا کہ یہ آگ ہے، یہ آگ ہے اس سے اپنے آپ کو بھی بچاؤ اور اپنی اولادوں کو بھی بچاؤ۔نوجوان لڑکے لڑکیاں جو اس معاشرے میں رہ رہے ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ یہ تمہاری زندگی کا مقصد نہیں ہے۔یہ نہ سمجھو کہ یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے کہ اس لہو و لعب میں پڑا جائے ، یہی ہمارے لئے سب کچھ ہے۔ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے تمہارے میں اور غیر میں فرق ہونا چاہئے۔اسی طرح ہر احمدی کو ہر قسم کے ظلم سے بچنے کی ضرورت ہے۔آپس میں محبت و پیار اور بھائی چارے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ہر قسم کے دھوکے سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت ہے۔نظام جماعت کی پابندی کی ضرورت ہے۔جماعت احمدیہ کی خوبصورتی تو نظام جماعت ہی ہے۔اگر اس خوبصورتی سے دور ہٹ گئے تو ہمارے میں اور غیر میں کیا فرق رہ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ تم نماز میں پڑھتے ہو وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔تم روزے رکھتے ہو دوسرے مسلمان بھی روزے رکھتے ہیں۔تم حج پر جاتے ہو دوسرے بھی حج پر جاتے ہیں۔یا بعض صدقات بھی دیتے ہیں تو کوئی فرق ہونا چاہئے۔ایک بڑا واضح فرق نظام جماعت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت سے تو ہمارا وفا کا تعلق ہے لیکن جماعتی نظام سے اختلاف ہے۔جماعتی نظام بھی خلافت کا بنایا ہوا انظام ہے، اگر کسی عہدیدار سے شکایت ہے تو خلیفہ وقت کو لکھا جاسکتا ہے۔اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔لیکن نظام جماعت کی اطاعت سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح عہدیداروں کا بھی کام ہے کہ لوگوں کے لئے ابتلا کا سامان نہ بنیں۔لوگوں کو ابتلا میں نہ ڈالیں اور سچی ہمدردی اور خیر خواہی سے ہر ایک سے سلوک کریں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی شرائط بیعت میں نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ میرے سے منسوب ہونے کے لئے نمازیں شرط ہیں۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159 مطبوعہ ربوہ) اس بارے میں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔لیکن اس مضمون کو آپ نے نمازوں کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرو اور اس کے احسانوں کو ہمیشہ یادرکھو۔