خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 163 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 163

خطبات مسرور جلد ہشتم 163 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 ان کے پاس اتنا مال ہو تا تھا کہ وہ ان کے ورثاء میں بھی کروڑوں میں تقسیم ہو تا تھا۔انہوں نے اسلام کی ترقی کے لئے اپنے مالوں کو بے دریغ خرچ کیا۔انہوں نے بخل اور کنجوسی کے ساتھ اور پیسے جوڑ کر یہ جائیدادیں نہیں بنائی تھیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے تھے۔ان کی تجارتوں میں برکتیں پڑیں۔انہوں نے دین کا خوب خوب حق ادا کیا پس ہمیں یہ نمونے اپنے سامنے رکھنے چاہئیں۔ہمیں بھی یہ نمونے دکھانے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔تبھی ہم اولین سے ملنے کے انعام کے تسلسل کو قائم رکھ سکتے ہیں، تبھی ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں۔سپین میں رہنے والے احمدی یاد رکھیں کہ آپ اس ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک زمانے میں مسلمان حکومت بھی تھی اور مسلمانوں کی اکثریت بھی تھی۔جہاں آج بھی سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی عظیم الشان عمارات محلات اور مساجد میں لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے الفاظ کندہ نظر آتے ہیں۔لیکن یہی وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کے دنیا میں پڑنے اور دین کی اصل بھلا دینے اور اس سے غافل ہو جانے کی وجہ سے قدم قدم پر ان کی داستان عبرت بکھری پڑی ہے۔ایک وقت تھا کہ عیسائی بادشاہ اور شہزادے اپنی حکومتوں کے استحکام کے لئے مسلمانوں سے مدد کے خواہاں ہوتے تھے۔باوجود مسلمانوں کے لئے دلوں میں بغض اور کینے اور دشمنیاں رکھنے کے اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنی تمام تر عزتوں کو بالائے طاق رکھ کر مسلمان بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہو جاتے تھے۔عیسائی مورخین بھی یہ لکھنے پر مجبور ہیں۔دنیاوی لحاظ سے بھی مسلمان بادشاہ اس کروفر سے رہتے تھے کہ عیسائی بادشاہ ، شہزادے ان کے تخت و تاج اور جاہ و حشمت کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔لیکن جب یہ سب کچھ آپس کی لڑائیوں میں بدل گیا جب مقصود صرف اور صرف دولت بن گیا اور اقتدار اور لہو ولعب ہو گیا تو یہ سب کچھ الٹ ہو گیا۔اور مسلمان بادشاہ عیسائی بادشاہوں کی پناہ گاہیں تلاش کرنے لگ گئے اور پھر دنیا نے یورپ کے اس مسلمان ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ اور ان کی ذلت اور رسوائی بھی دیکھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آخری فتح اسلام کی ہے اور اس کام کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور یہی کام آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کے سپر د ہے۔یہ احیائے دین کا کام ہی ہے جس نے ہمیں بھی ہمیشہ کی زندگی بخشنی ہے۔اگر ہم دنیا کی ہوا و ہوس میں پڑ گئے اور ان ملکوں میں آکر ہمارا کام صرف دنیا ہی رہ گیا تو یہ اس عہد بیعت کے بھی خلاف ہے جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا ہے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے جو عہد کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارہ میں ہم سے پوچھے گا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے وَ اَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل :35) اور اپنے عہد کو پورا کرو کیونکہ ہر عہد کے متعلق یقیناً جواب طلبی ہو گی۔اللہ تعالیٰ کی رحمت بیشک وسیع تر ہے اور اس کے تحت وہ