خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد ہشتم 164 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 جس سے چاہے رحم کا سلوک فرماتا ہے، فرماسکتا ہے۔لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کو کبھی دھو کہ نہیں دیا جا سکتا۔اگر وہ چاہے تو ہر ہر عہد کے بارہ میں سوال کرے گا کہ کیوں اسے پورا نہیں کیا گیا۔اگر ہم اپنے جائزے لیں تو انسان خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ کیا ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو عہد بیعت باندھا ہے اس کو پورا کرنے والے بھی ہیں ؟ اگر شرائط بیعت کو دیکھیں تو ان کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق کی ادائیگی کرنی ہے اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرنی ہے۔ہمیشہ یہ باتیں ہمارے پیش نظر رہنی چاہئیں۔اسی طرح آنحضرت ملا یہ تم پر درود بھیجنا ہے اور آپ کے غلام صادق کے ساتھ کامل اطاعت کا تعلق رکھنے کی طرف توجہ رکھنی ہے اور ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔پس اس عہد بیعت کو جس کی دس شرائط ہیں ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔تبھی ہم اپنی روحانی زندگی کے سامان کر سکتے ہیں اور تبھی ہم احیاء دین کے کام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مد و معاون بن سکتے ہیں۔بعض دفعہ انسان اپنی ذاتی مصروفیات میں پڑ کر اپنی ترجیحات اور ضروریات کی وجہ سے مستقل مزاجی سے دین کے معاملات کی طرف اس طرح توجہ نہیں دے سکتا جس طرح اس کا حق ہے۔اور یہ انسانی فطرت بھی ہے۔اس لئے وقتا فوقتا اس عہد کی جگالی کرتے رہنا چاہئے۔سپین میں رہنے والے احمدیوں کو تو جیسا کہ میں نے کہا قدم قدم پر ایسے نشانات ملتے ہیں جو انہیں ماضی کے در بچوں میں جھانکنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔اور توجہ دلاتے ہوئے اپنے جائزے لینے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ہر بڑی سڑک پر شہروں کے نام اور یہ شہر اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ جگہیں بھی کبھی اسلامی شان و شوکت کے گہوارے ہوا کرتی تھیں۔لیکن مسلمانوں کو دولت کی ہوس، آپس کی سیاست اور دھو کے بازیوں ، لہو و لعب اور عیاشیوں میں پڑنے کی وجہ سے قصہ پارینہ بننا پڑا اور وہ پرانے قصے بن گئے۔اور ایک مسلمان ملک مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔آج اس کھوئی ہوئی عزت و عظمت کو جماعت احمدیہ نے قائم کرنا ہے انشاء اللہ۔اس کے لئے آنحضرت علی علیم کے حقیقی غلام بن کر دکھانے کی ضرورت ہے۔اسلام کی تعلیم کی عملی تصویر بننے کی ضرورت ہے جو محبت، پیار اور بھائی چارے کے سوا کچھ نہیں ہے۔جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ حالت اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اپنے مقصد پیدائش کو سمجھیں گے۔ہر احمدی مرد، عورت، بچہ ، بوڑھا اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھے گا۔جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: (57) کہ یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اور جب اس مقصد کے حصول کے لئے عبادت کے معیار طے ہونے شروع ہو جائیں گے تو پاک تبدیلیاں بھی پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی۔اپنی روحانی زندگی کے بھی سامان ہوں گے اور دوسرے کی روحانی زندگی کے لئے بھی کوشش ہو رہی ہو گی۔