خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 162

خطبات مسرور جلد ہشتم 162 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 مروجہ دینی تعلیم کے مطابق کوئی برائی نہیں ہے یا اگر برائی ہے بھی تو ان کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔اگر کسی کے اپنے اعمال نجات کا ذریعہ نہیں بننے تو نیکی اور برائی کے معیار بھی بدل جاتے ہیں۔آج اسلام ہی ہے جو زندہ خدا کا تصور پیش کرتا ہے۔اسلام ہی ہے جو قیامت تک دائمی نجات کا راستہ دکھانے والا مذہب ہے۔اسلام کا خدا ہی ہے جو اسلام کی زوال کی حالت میں بھی تجدید دین کے لئے اپنے فرستادے بھیجنے کا وعدہ فرماتا ہے، تسلی دلاتا ہے اور بھیجتا ہے۔آج اسلام کا خدا ہی ہے جس نے ایمان کو ثریا سے زمین پر لانے کے لئے مسیح موعود اور مہدی موعود کو بھیجا ہے اور آج اسلام کا خدا ہی ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کی خلافت کے نظام کو جاری فرمایا۔وہ نظام جو دائمی نظام ہے اور جو مومنین کی جماعت کو ایک لڑی میں پرونے کے لئے جاری کیا گیا ہے تاکہ ہر فرد کی روحانی خوبصورتی نظر آئے۔تاکہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے ہر وقت راہنمائی کی کوشش ہوتی رہے۔پس مسلمانوں کا دین تو زندہ دین ہے۔ہمیشہ قائم رہنے والا دین ہے اور اس کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ بھی فرمایا ہے۔یہ وہ زندہ دین ہے جس کے غلبہ کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔پس اگر کوئی مسلمان دین سے دور جاتا ہے تو وہ اپنی دنیا و عاقبت خراب کرتا ہے۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے ترقی کرنی ہے انشاء اللہ اور کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔پس ہم جو احمدی کہلاتے ہیں ، ہم جو آنحضرت صلی للی نم کے عاشق صادق اور امام الزمان کے ساتھ کئے گئے عہد بیعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا مقصود دنیا نہیں بلکہ دین ہے اور ہو نا چاہئے ور نہ تو اس بیعت کا کوئی فائدہ نہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا اس دین نے ، اسلام نے تو ترقی کرنی ہے۔احمدیت نے تو انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ کے دن دیکھنے ہیں۔اسلام تو زندہ دین ہے۔اس نے تو کبھی نہیں مرنا۔لیکن جیسا کہ آنحضرت صلی لی ہم نے فرمایا جو اس دین کی تعلیم کو بھولے گا وہ ہلاک ہو گا۔وہ اپنی بربادی کی طرف جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مجھے اسلام کی فکر ہے۔بلکہ آپ کو اس آخری دین کی یہ فکر تھی کہ یہ تمہارے عملوں کی وجہ سے دنیا سے نابود نہ ہو جائے۔یہ تو الہی وعدہ ہے اور اس پر آپ صلی علی نظم کو کامل یقین تھا کہ جو بھی حالات ہوں آخری فتح انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کی ہی ہے۔اس لئے آنحضرت صلی علی یم نے مسلمانوں کو ، امت کے افراد کو یہ تنبیہ فرمائی کہ تم کہیں آسائش اور آرام اور دولت دیکھ کر دین سے دُور ہو کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال دینا۔آنحضرت صلی ا ظلم کے صحابہ تو دولتمند ہوتے ہوئے بھی دین کو مقدم رکھتے تھے۔دنیا کمانے کے باوجود بھی دین مقدم ہو تا تھا۔اپنی دولت دین کی راہ میں بے انتہاء خرچ کرتے تھے۔انہوں نے انتہائی تنگی اور کسمپرسی کی حالت بھی دیکھی اور ایسی کشائش بھی دیکھی کہ جب فوت ہوتے تھے تو کروڑوں کی جائیدادیں ان کی ہوتی تھیں اور